حضرتِ سیدنا مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغَفَّار بصر ہ کی کسی گلی سے گزر رہے تھے کہ بادشاہ کی ایک کنیز آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے قریب سے گزری۔ وہ سواری پر تھی اور اس کے ساتھ کچھ خُدّام بھی تھے۔ جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پیچھے سے اس کی آہٹ سنی تو مُڑ کر پیچھے دیکھا اور اس کی آب وتاب دیکھ کرکہنے لگے'' اے کنیز! کیاتیرا آقا تجھے بیچے گا؟'' کنیزنے جب یہ بات سُن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طرف دیکھاتو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پرانا چوغہ پہنے ہوئے تھے لیکن خوش شکل اور با وقار دکھائی دیتے تھے ۔ اس نے اپنے خُدّام کو سواری روکنے کا حکم دیا ۔ انہوں نے سواری روک دی تو اس کنیز نے حضرتِ سیِّدُنا مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغَفَّار کی طرف رُخ کر کے کہا:'' اے شیخ ! ذرا اپنی بات دہراؤ۔''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا : ''میں پو چھ رہاہوں کہ کیا تیرا آقا تجھے بیچے گا ؟ ''کنیز بولی کہ'' تم پر افسوس ہے ، اگر میرا آقا مجھے بیچنا بھی چاہے تو کیا تمہارے جیسا شخص مجھے خرید سکتا ہے ؟'' پھر خُدّام نے حضرتِ سیِّدُنا مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغَفَّار کو گھیر لیا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ'' میرا راستہ چھوڑ دو،میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔''
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس قافلے کے ہمراہ اس کنیز کے محل تک پہنچ گئے۔ محل کے دربان اس کنیز کو دیکھ کر کھڑے ہوگئے اور اسے سواری سے اتا را۔ وہ کنیزمحل میں داخل ہوگئی جبکہ حضرتِ سیِّدُنا مالک علیہ رحمۃ اللہ الغَفَّار دروازے پر کھڑ ے رہے۔ جب کنیز اپنے آقا کے پاس پہنچی تو اس سے کہا:''اے میرے آقا ! مجھے ایک تنگدست