Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
135 - 303
ترجمہ:(۱)کیاتُوہمیشہ رہنے والوں کی طرح عمارت تعمیرکررہاہے ،حالانکہ اس عمارت میں تیراقیام بہت تھوڑاہے اگرتُواس بات کوسمجھے۔

    (۲)جس کوہردن رخصت(موت) کادھڑ کالگا ہو،اسے تو پیلو (درخت )کے سائے میں دوپہر کاآرام کافی ہے۔
اُخروی زندگی کو ترجیح دو:
     حضرت سیدنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی فرمایا کرتے تھے کہ'' اے ابن آدم ! تمہارے لئے ایک دنیوی زندگی ہے اور ایک اُخروی، لہذا تم دنیوی زندگی کو اُخروی زندگی پر ہر گز تر جیح نہ دینا کیونکہ خدا عزوجل کی قسم ! میں نے بہت سے ایسے لوگو ں کو دیکھا کہ جنہوں نے اپنی دنیوی زندگی کو اُخر وی زندگی پر تر جیح دی تو وہ ذلیل ورسو اہوکر ہلاکت میں مبتلا ہوگئے ۔''

     اے انسان! دنیا کو آخرت کے بدلے بیچ ڈال، دونوں جہاں میں نفع پائے گا اور آخرت کو دنیا کے عوض ہرگزنہ بیچنا کہ دونوں میں نقصان اٹھائے گا ،۔۔۔۔۔۔ اے ابن آدم! جب تمہارے لئے آخرت کی بھلائی ذخیرہ کرلی جائے تو دنیا کی کوئی تکلیف تمہیں نقصان نہ دے سکے گی ،۔۔۔۔۔۔اے انسان! دنیا ایک سواری ہے اگر تو اس پر سوار ہوگا تو یہ تجھے اٹھائے گی اور اگر تو نے اسے اٹھا یاتو یہ تجھے مارڈالے گی، ۔۔۔۔۔۔اے انسان ! تُو عنقریب موت کا شکار ہونے والا ہے پھر تجھے تیرے رب عزوجل کے حضور پیش کیاجائے گا،لہذاتو زندگی ہی میں آخرت کی تیاری کر لے کیونکہ تجھے موت کےوقت اس کی اہمیت کا اندازہ ہوگا، ۔۔۔۔۔۔اے انسان! دنیا میں اپنا دل مت لگا کہیں تو ایک چپک جانے والی شے سے دل نہ لگا بیٹھے ، ۔۔۔۔۔۔اے انسان ! تو سرکشی میں جتنا راستہ
Flag Counter