اے تو بہ کرنے والو ! آؤہم اپنے گناہو ں پر رو لیں ،۔۔۔۔۔۔یہ رونے کا مقام ہے آؤ اپنی محرومی کے بارے میں گریہ وزاری کرلیں ،شاید قربت کا زمانہ اسی طر ح لوٹ آئے جیسے پہلے تھا،۔۔۔۔۔۔ بالوں کی یہ سفیدی شہروں کی ویرانی سے ڈرا رہی ہے،۔۔۔۔۔۔ اے اپنی جوانی سے بڑھا پے تک عبادت وریاضت میں پیچھے رہ جانے والے! قافلہ کوچ کرچکا ہے ،۔۔۔۔۔۔ اے پیچھے رہ جانے پر پریشان ہونے والے!اے محرومی کے جنگل میں حیران وپریشان پھرنے والے! تیرا دن تلاش ِ معاش اور رات خواب ِغفلت میں گزرتی ہے، اس خسارے کا حقیقی احساس تمہیں اس وقت ہوگا جب تمہاری جوانی کچھ نفع دئیے بغیر تم سے منہ پھیر لے گی اور بڑھاپاسوائے نقصان کے کچھ نہ دے سکے گا ،۔۔۔۔۔۔تو بہ کے ساحل پر ہی ٹھہرجاؤ کیونکہ گناہوں کے سمند ر بڑے طوفانی ہیں،۔۔۔۔۔۔ آہ!تو نے جوانی کی بہاریں یونہی غفلت میں گزاردیں اور نافرمانیوں کی خزاں چھاگئی ہے تواب تو بڑھاپے میں نادم ہے ۔