کی بیٹی آپ کے ہاتھ پرمسلمان ہونے آئی ہے۔'' تو شیخ نے اسے اند ر آنے کی اجازت دیدی وہ گھر میں داخل ہو کر بولی :''اے میرے سردار ! میں اپ کے ہاتھ پر مسلمان ہونے آئی ہوں۔''
شیخ نے پوچھا کہ'' تمہارا قصہ کیاہے؟'' تو اس نے شیخ کو بتایا کہ ''جب آپ وہاں سے چلے آئے تو مجھ پر نیند کا غلبہ طاری ہوا اور میں سوگئی تومیں نے خواب میں حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کودیکھا ،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمارہے تھے کہ'' دینِ محمدی علی صاحبہاالصلوۃ والسلام کے علاوہ کو ئی دین سچانہیں ۔''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تین مرتبہ یہ بات ارشاد فرمائی پھر فرمایا کہ'' اللہ تعالیٰ نے تیرے ذریعے اپنے ایک بندے کو آزمایا ہے ۔'' چنانچہ اب میں آپ کے پاس آگئی ہوں اور آپ کے سامنے گواہی دیتی ہوں کہ اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ عزوجل کے رسول ہیں۔'' شیخ اس عورت کے اپنے ہاتھ پر مسلمان ہونے کی وجہ سے بہت خوش ہوئے ۔ پھر انہوں نے اس سے اللہ عزوجل کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کے مطابق نکاح کرلیا ۔
جب ہم نے ان سے اس خطا کے بارے میں پوچھا جواُن کے اور اللہ عزوجل کے درمیان راز تھی تو انہوں نے بتا یا کہ'' میں کسی جگہ سے گزررہاتھا کہ ایک نصرانی آکر مجھ سے لپٹ گیا میں نے اس سے کہا کہ ''تجھے پر اللہ کی لعنت ہومجھ سے دور ہو جا۔''اس نے پوچھا :''کیوں ؟'' تومیں نے کہا کہ'' میں تجھ سے بہتر ہوں۔'' تو نصرانی میری طرف متو جہ ہو کر بو لا کہ'' تمہیں کیا پتا کہ تم مجھ سے بہتر ہو کیا تم جانتے ہو کہ تمہارا اللہ عزوجل کے نزدیک کیا مقام ہے کہ تم یہ بات کہہ رہے ہو؟ ''پھر مجھے بعد میں خبر ملی کہ وہ نصرانی مسلمان ہو چکا ہے اور کامل مسلمان ہو کر عبادت گزار بن چکا ہے ۔جبکہ مجھے