Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
131 - 303
    آخرِ کار ہم اس کے حال پر کفِ افسوس ملتے ہوئے مکہ مکرمہ کی طر ف چل دئیے اور حج ادا کرنے کے بعد واپس بغداد کی طرف روانہ ہوئے ۔ جب ہم اسی مقام پرپہنچے تو ہم نے ایک دوسرے سے کہا کہ'' آؤ دیکھتے ہیں کہ اس پر کیا گزری، شاید وہ نادم ہو کر اللہ عزوجل کی بارگاہ میں تو بہ کر چکا ہو اور اپنی حالت سے لوٹ آیا ہو۔'' ہم اس کے پاس پہنچے تو اسے اسی حالت پر پایا وہ خنز یر وں کی دیکھ بھال کر رہا تھا ہم نے اسے سلام کیا اور نصیحت یاددلائی اور قرآن پڑھ کر سنایا مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا ۔ ہم ایک بار پھر حسرت زدہ دل لئے واپس ہولئے۔

    جب ہم گرجا گھر سے تھوڑی دور پہنچے تو ہم نے گر جے کے پیچھے سے ایک سائے کو اپنی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا، وہ شخص چیخ چیخ کر ہمیں ٹھہرنے کا کہہ رہا تھا ۔ ہم رک گئے قریب آنے پر معلوم ہوا کہ ہمارے وہی استا ذ ہماری جانب آرہے ہیں جب وہ ہم سے آکر ملے تو بولے :'' میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں میں اللہ عزوجل کی بارگاہ میں تو بہ کرچکاہو ں اور اپنی پچھلی حالت سے رجو ع کرچکاہوں، یہ آزمائش میری ایک ایسی خطا کے سبب تھی جو میرے اور میرے رب عزوجل کے درمیان تھی اس نے میری اس خطاکے سبب مجھ پرعتاب فرمایا تھا، یہ آزمائش جو تم نے دیکھی وہ اسی سبب سے تھی۔'' ہم اس پر بہت خوش ہوئے اور بغداد لوٹ آئے اور ہمارے استاذ پہلے سے زیادہ عبادات اور مجاہدات میں مصروف ہوگئے ۔

    ایک دن ہم ان کے گھر پر ان سے علم دین حاصل کررہے تھے کہ ہم نے ایک عورت کو درو ازہ کھٹکھٹاتے دیکھا تو ہم باہر نکلے اور پوچھا کہ'' اے خاتو ن !کیا کام ہے ؟'' اس نے کہا کہ'' میں شیخ سے ملنا چاہتی ہوں ان سے کہوکہ فلاں راہب