اسلام چھوڑ کر نصرانی ہوگیاہوں۔'' لڑکی بولی کہ'' چونکہ یہ عزت ووقار کی شادی ہے لہذا حقوقِ زوجیت اور مہرکی ادائیگی ضروری ہے تم حق کہاں سے اداکروگے کیونکہ میں دیکھ رہی ہوں کہ تم فقیر ہو،پھر بھی اگر تم ان خنزیرو ں کو پورا ایک سال چَراؤتویہی میرا مہر ہوگا ۔'' وہ بولا : ''ٹھیک ہے مگر میری بھی ایک شرط ہے کہ تم اس دوران اپنا چہرہ مجھ سے نہیں چھپاؤگی تا کہ میں صبح وشام اسے دیکھتا رہوں۔'' لڑکی بولی :'' مجھے منظور ہے ۔'' تو اس نے خطبہ دینے والا عصا اٹھایا اور خنزیروں کی طر ف چل دیا تا کہ عصا کے ذریعے انہیں چراگاہ تک لے جائے ۔
جب طلبہ نیند سے بیدار ہوئے تو اپنے استا ذ کو تلاش کرنے لگے۔ جب وہ تلاشِ بسیار کے باوجود نہ ملا توانہوں نے راہب سے اس کے بارے میں پوچھا تو جواباًاس نے ساری کہانی سنائی۔یہ افسوس ناک خبر سن کر طلبہ میں کہرام مچ گیا،کچھ غش کھاکر گر گئے اور کچھ آہ وبکا کرنے لگے ۔پھر انہوں نے راہب سے کہاکہ'' اب وہ کہا ں ہے ؟'' راہب نے بتایا کہ'' وہ خنز یر چرا رہا ہے ۔''راوی کہتے ہیں کہ'' پھر ہم اس کی طرف چل دئیے تو اسے اسی عصا سے سہارا لئے دیکھا جس کے سہارے وہ خطبہ دیا کرتا تھا ،وہ خنزیرو ں کو ادھر ادھر جانے سے روک رہا تھا۔'' ہم نے اس سے کہا کہ ''اے ہمارے سردار ! یہ تم پر کیسی آزمائش آگئی ؟''پھر ہم اسے قرآن پاک ، اسلام اور حضورِپاک ،صاحبِ لولاک،سیّاحِ افلاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فضائل یا د دلانے لگے اور اسے قرآن وحدیث کے فرامین سنائے تو اس نے کہا کہ'' مجھ سے دور ہوجاؤ، تم جو کچھ یاد دلارہے ہو وہ میں تم سے زیادہ جانتا ہوں مگر مجھ پر اللہ ربُّ العالمین عزوجل کی طر ف سے آزمائش نازل ہوئی ہے۔''ہم نے اسے اپنے ساتھ لے جانے پر بہت زور دیا مگرناکام رہے۔