Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
129 - 303
فکر میں لگ گیا۔

     اس نے آہستگی سے گرجاکا دروازہ کھٹکھٹا یا تو ایک راہب باہر نکلا اس نے پوچھا کہ'' تم کون ہو ؟ ''اس نے اپنا تعارف کروایا کہ میں فلاں عالم ہوں ۔راہب نے پوچھا:'' اے مسلمانوں کے فقیہ کیاچاہے؟''جواب دیا'' اے راہب! مجھے گرجاکی چھت سے ابھی ایک لڑکی دکھائی دی تھی وہ تمہاری کیا لگتی ہے ؟'' راہب نے کہا کہ'' وہ میری بیٹی ہے مگر تم اس کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہو؟ ''استاذنے کہا:''میں چاہتاہوں کہ تم اس کی شادی میرے ساتھ کردو۔'' راہب بولا کہ ''ہمارے دین میں ایسا کرنا جائز نہیں اگر جائز ہوتا تو میں اس سے پوچھے بغیر اسے تمہاری زوجیت میں دے دیتا حالانکہ میں نے اپنے آپ سے عہد کیاہے کہ اس کی شادی اسی کی پسند سے کرواؤں گا، میں اسے تمہارے بارے میں بتاتاہوں اگر وہ تمہیں اپنے لئے پسند کرے تو میں اسے تمہاری زوجیت میں دے دوں گا ۔'' استاذنے کہا کہ'' یہ تو بڑی خو شی کی بات ہے ،مہربانی فرما کراس کے پاس جائیے اور پوچھئے ۔''

    وہ راہب اپنی بیٹی کے پاس گیا او رسارا ماجرا بیان کیا۔ ادھر یہ استاذان کی باتیں سن رہا تھا، وہ لڑکی بولی:'' ابا جان !آپ میرا نکاح اس سے کس طرح کر سکتے ہیں حالانکہ میں عیسائی ہوں اور وہ مسلمان ہے ،یہ تو اسی صورت میں ممکن ہے کہ وہ نصرانیت میں داخل ہوجائے۔'' راہب نے پوچھا:'' اگر وہ نصرانی ہوجائے تو کیا تم اس سے شادی کرلوگی؟''لڑکی بولی : ''ہاں کرلوں گی۔''

     وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ استاذ کی بے تابی بڑھتی چلی جارہی تھی ،اِدھر اس کے طلبہ بے خبر سورہے تھے۔آخر کار استاذ لڑکی کی طر ف متو جہ ہوکر بولا:'' میں دین