Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
128 - 303
کے لئے ساری عمر گمراہی میں گزاری پھر اللہ عزوجل نے اس کی تو بہ کی وجہ سے اسے جہالت کے اندھیرو ں سے نکال دیا ۔''
ایک عالم کا امتحان:
     منقول ہے کہ بغداد میں ایک شخص بہت بڑا عالم تھا ۔لوگ حصولِ علم اور اصلاح کے شوق میں اس کے پاس آتے جاتے تھے۔ ایک مرتبہ اس نے حجِ بیت اللہ اور روضۂ رسول صلی  اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کا قصد کیا تو اپنے طلبہ کو بھی ساتھ چلنے پر آمادہ کرلیا اور ان سے عہد لیا کہ وہ اللہ عزوجل پر توکل کرتے ہوئے چلیں گے ۔دوران ِسفر یہ لوگ جب ایک گر جاگھر کے قریب پہنچے توگرمی اور پیاس کی شدت سے نڈھال تھے۔ طلبہ نے عرض کیا کہ'' اے ہمارے استا د گرامی ! ہم دن ٹھنڈا ہونے تک اس گر جا کے سائے میں آرام کرلیتے ہیں پھران شاء اللہ عزوجل دوبارہ سفرپر روانہ ہوجائیں گے۔'' استا د نے کہا:'' جیسے تمہاری مرضی ۔'' 

    چنانچہ یہ لوگ اس گرجا کی طرف چل دئیے او راس کی دیوار کے سائے میں پڑاؤ ڈال دیا ۔ گرمی سے بے حال لوگوں کو سایہ نصیب ہوا تو وہ جلد ہی نیند کی آغوش میں چلے گئے مگر استا ذ نہ سویا۔ وہ انہیں سوتا چھوڑ کر وضو کے لئے پانی کی تلاش میں نکل پڑا۔ اس وقت اس کے ذہن میں صرف ایک ہی خیال تھا کہ کسی طرح پانی مل جائے۔ ابھی وہ گرجاکے سائے میں پانی تلاش کررہاتھا کہ اس کی نظر ایک کم سن لڑکی پر پڑ ی جو چمکتے ہوئے سورج کی طر ح خوبصورت تھی۔ اس پر نگاہ پڑتے ہی شیطان اس استاذ پر غالب آیا اور وہ لڑکی اس کے دل ودماغ پر چھا گئی اور وہ وضو اور پانی کو بھول کراس کی
Flag Counter