| آنسوؤں کا دریا |
تواس کے قُرب پر خوش ہوتے ہیں، اگر ڈرتے ہیں تو اس کے عتا ب سے ڈرتے ہیں، محبوب کاذکر ان کی غذاہے اور ان کے اوقات اللہ عزوجل سے مناجات کرنے میں گزرتے ہیں، اس کے بغیر انہیں چین نہیں آتااوروہ اس کی رضا کے بغیر ایک لفظ بھی نہیں بولتے ۔ چنداشعا ر
حَیَاتِیْ مِنْکَ فِیْ رُوْحِ الْوِصَالِ وَصَبْرِیْ عَنْکَ مِنْ طَلَبِ الْمُحَالِ وَکَیْفَ الصَّبْرُ عَنْکَ وَاَیُّ صَبْرٍ لِعَطْشَانَ عَنِ الْمَاءِ الزُّلَالِ اِذَا لَعِبَ الرِّجَالُ بِکُلِّ شَیْئٍ رَأَیْتُ الْحُبَّ َیلْعَبُ بِالرِّجَالِ
ترجمہ:(۱)تیری طرف سے میری زندگی وصالِ حقیقی میں ہے ،اور تجھ سے کنارہ کشی کرنے کامطالبہ مجھ سے(گویا)ناممکن کاطلب کرناہے ۔
(۲)تیرے بغیر صبر کیسے ہوسکتاہے کہ پیاساشخص صاف میٹھے خوشگوارپانی سے کتنا صبر کرے ۔
(۳)جس وقت لوگ ہرچیزسے کھیلتے ہیں (اس وقت) میں نے محبت کودیکھاکہ وہ ان لوگوں سے کھیل رہی ہوتی ہےبندے کی توبہ پرشیطان کی بدحواسی:
رسولِ خدا، حبیب کبریا ،احمد مجتبیٰ عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ پاک ہے کہ ''جب بندہ چالیس بر س کی عمر کو پہنچ جائے اور اس کی بھلائی اس کے شر پر غالب نہ آئے تو شیطان اس کی پیشانی چو م کر کہتا ہے کہ'' میں اس چہرے پہ قربان جو کبھی فلاح نہیں پائے گا ۔''پھر اگر اللہ عزوجل اس بندے پر احسان فرمائے اور وہ شخص اللہ عزوجل کی بارگاہ میں تو بہ کرلے اور اللہ عزوجل اسے گمراہی سے بچالے اور جہالت کی تاریکیوں سے نکال دے۔'' تو شیطان ملعون کہتا ہے:'' ہائے افسو س! اس نے میری آنکھیں ٹھنڈی کرنے