Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
126 - 303
نفسانی خواہشات کا وبال
    اے وہ شخص! جسے محرو می نے بٹھا رکھا ہے،یہ تو بہ کرنے والوں کاقافلہ ہے تُو بھی ان کے ساتھ شریکِ سفر ہوجا،۔۔۔۔۔۔ تیرے پاس نہ تو آنسو ؤں کا کوئی خزانہ ہے اور نہ ہی افسو س کرنے والا دل ہے،۔۔۔۔۔۔ میں تجھے بے یارو مد د گار دیکھ رہا ہوں، یہ بڑھاپے کی گھنٹی کُوچ کا اعلان کررہی ہے،۔۔۔۔۔۔ اے شخص ! آخر ت کی تیاری کرلے کب تک عذر کرتا رہے گا ؟ کب تک سستی کریگا ؟ کتنی غفلت کریگا ؟ میں قیامت کے دن تجھے معذور نہیں پاتا، تیرے وصال کا گھر ویران ہے جبکہ جدا ئی کا گھر آباد ہے ،قد م بڑھا شاید توبہ سے کوتا ہیوں کا ازالہ ہوجائے او ر سحری کے وقت ایک سجدہ ایساکرلے جو تجھے قیامت کی ہولنا کیوں سے نجات دلائے ،قرآنِ پاک میں ہے:
وَ لِلہِ یَسْجُدُمَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ طَوْعًا وَّکَرْہًا وَّظِلٰلُہُمۡ بِالْغُدُوِّ وَالۡاٰصَالِ ﴿ٛ15﴾
ترجمہ کنز الایمان :اور اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں خوشی سے خواہ مجبوری سے اور ان کی پر چھائیاں ہر صبح وشام۔ ۱؎(پ13،الرعد:15)

    کیا خوب ہیں وہ لوگ جن کے دل یادِمحبوب سے معمور رہتے ہیں ، ان کے دلوں میں محبوب کے سوا کسی کی یاد کا کوئی حصہ یاگنجائش نہیں ۔اگر وہ بولتے ہیں تو اسی کا تذکرہ کرتے ہیں ،اگر حرکت کرتے ہیں تو اسی کے حکم سے کرتے ہیں، اگر خوش ہوتے ہیں
۱؎یہ آیتِ سجدہ ہے اور''آیت سجدہ پڑھنے یاسننے سے سجدہ واجب ہوجاتاہے۔''(بہارشریعت،ج۱،حصہ۴،ص۳۸)
Flag Counter