Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
125 - 303
سیدنا مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی مناجات:
    حضرتِ سیِّدُنا مغیرہ بن حبیب علیہ رحمۃ اللہ المُجِیْب فرماتے ہیں کہ'' میں محبو بانِ خداعزوجل کے مجاہدات او رعا رفین کی مناجات کے بارے میں سناکرتا اور ان میں سے کسی کے حال پر مطلع ہونے کی خواہش کرتا تھا۔ لہذا میں حضرتِ سیِّدُنا مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغَفَّار کے ہاں گیااور چھپ کرانہیں دیکھنے لگا ۔میں کئی راتوں تک ان کی عبادات کو دیکھتا رہا۔ وہ عشاء کے بعد وضوء کرتے اور نماز کے لئے کھڑے ہوجاتے۔ بعض اوقات ایک یا دو آیتو ں کی تکرار میں پوری رات گزار دیتے ۔ کبھی آہستہ آہستہ تلاوت کی آواز بڑھادیتے پھر جب سجدہ کرلیتے اور نماز سے فارغ ہوتے تو اپنی داڑھی پکڑ لیتے اور بچو ں سے بچھڑ جانے والی ماں کی طر ح فریاد کرتے اور پریشان حال شخص کی طرح روتے ہوئے یوں دعا مانگتے:'' یا الٰہی عزوجل!اے میری زندگی کے مالک !اے میری تنہائی کے رفیق !اے مناجات کے سننے والے ! تونے اپنے اس فرمان سے فضل واحسان کیا :
یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوۡنَہٗۤ
ترجمہ کنزالایمان:وہ اللہ کے پیارے اور اللہ ان کاپیارا۔(پ 6،المائدہ :54)

    اور محب اپنے حبیب کو عذاب نہیں دیتا لہذا تُو مالک بن دینار کے بڑھاپے کو جہنم پرحرام فرمادے،یا الٰہی عزوجل!تو جہنمیوں اور جنت میں داخل ہونے والوں کو جانتا ہے، مالک بن دینا ر کا ان میں سے کونسا گھر ہے ؟ اور مالک کا ٹھکانا کونساہے ؟'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ یونہی طلوع فجر تک مناجات کرتے رہتے اور عشاء کے وضوء سے فجر کی نماز ادا کرتے۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
Flag Counter