| آنسوؤں کا دریا |
حضرتِ سیِّدُنا ابو ماجدعلیہ رحمۃ اللہ الواجد فرماتے ہیں : ''میں صوفیاء سے بہت محبت رکھتا تھا، ایک دن میں ان کے پیچھے پیچھے ایک عالم کی مجلس میں پہنچاتو میں نے اس مجلس میں ایک نوجوان دیکھا جس کی زیارت کے لئے لوگ بے تاب تھے ۔ وہ نوجوان جب '' اللہ، اللہ'' کی صدائیں سنتا تو اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ پاتا ۔عین عالَم شباب میں اسے اس طرح روتا دیکھ کر مجھے بڑا تعجب ہوا۔ میں نے ایک بزرگ سے اس نوجوان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا :'' یہ تو بہ کے بعد اس طرح اشک باری کرتا اور نوافل کی ادائیگی میں مصروف نظر آتا ہے ، اس کادل بہت نرم ہے اور یہ محبتِ الٰہی عزوجل میں خود رفتہ ہے ۔'' اسی اثناء میں کسی قاری نے یہ آیت کریمہ پڑھی:
فَاذْکُرُوۡنِیۡۤ اَذْکُرْکُمْ
ترجمہ کنزالایمان :تومیری یاد کرو میں تمہاراچرچاکروں گا۔(پ 2،البقرۃ :152) تو وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا:'' اے میرے مولا عزوجل! وہ ذلیل ورسوا ہوگیا جس کے دل میں تیری یاد کے علاوہ کچھ اور ہے ، اے دلوں کے محبوب ! ساری کائنات میں تیرے سوا کون ہے جسے یاد کیا جائے ۔'' (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم) چند اشعار
تَھَتُّکِیْ فِیْ الْھَوٰی حَلَالِیْ وَعَاذِلِیْ مَالَہُ ومَالِیْ یَلُوْمُنِیْ فِیْ الْغَرَامِ جَھْلًا وَکُلَّمَا لَامَنِیْ حَلَالِیْ قَالُوْا تَسَلَّیْتَ قُلْتُ کَلَّا یَاقَوْمِ مِثْلِیْ یَکُوْنُ سَالِیْ قَالُوْا تَعَشَّقْتَ قُلْتُ اَھْلًا لَقَدْ تَعَشَّقْتُ لَا اُبَالِیْ