| آنسوؤں کا دریا |
مَنْ کَانَ حِیْنَ تَمَسُّ الشَّمْسُ جَبْھَتَہُ اَوِالْغُبَارُ یَخَافُ الشَّیْنَ وَ الشَّعْثَا وَیَاْلَفُ الظِلَّ کَیْ تَبْقٰی بَشَاشَتُہُ فَسَوْفَ یَسْکُنُ یَوْمًا رَاغِمًا جَدَثًا فِیْ قَعْرٍ مُظْلِمَۃٍ غَبْرَاءَ مُوْحِشَۃٍ یُطِیْلُ تَحْتَ الثَّرٰ ی فِیْ جَوْفِھَا اللَّبَثَا
ترجمہ:(۱)ایساشخص جو اپنے چہرے پردھوپ اورغبارپڑنے سے ڈرتاہے کہ کہیں عیب داریا پراگندہ نہ ہوجائے ۔
(۲)اور سایہ کی تلاش کرتاہے تا کہ اس کی ترو تا زگی قائم رہے یہ عنقریب ایک دن قبر میں خاک آلود ہوکررہے گا۔
(۳) وہ تاریک ،غبارآلوداوروحشت میں ڈالنے والے گڑھے میں ہوگا اور عرصہ درازتک مٹی کے نیچے اس کے پیٹ میں رہے گا۔نیک لوگوں کا صدقہ:
حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ بن مریم (علی نبیناوعلیہ الصلوٰۃ والسلام ورضی اللہ تعالیٰ عنہا) اپنے حواریوں کے پاس تشریف لائے ۔حواریوں کے چہرے گرد آلود تھے مگر نور سے چمک رہے تھے ۔آپ علیہ السلام نے ان سے ارشادفرمایا :'' اے آخرت کے بیٹو ! نازو نعمت میں رہنے والوں کو تمہاری بچی نعمتوں ہی سے حصہ ملتا ہے ۔'' (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
نورانی چہرے:
حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی سے پوچھاگیا : ''تہجد گزار لوگو ں کے چہرے دیگر لوگو ں سے زیادہ خوبصورت کیوں ہوتے ہیں ؟'' تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا : ''وہ اللہ عزوجل کے لئے تنہائی اختیار کرتے ہیں تو اللہ عزوجل انہیں اپنے نور کا لباس پہنا دیتا ہے ۔''