| آنسوؤں کا دریا |
کہنا ہے کہ'' مجھے جب بھی یہ گفتگو یاد آتی ہے تو میں رو پڑتا ہوں۔''
حضرتِ سیِّدُنا عتبیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ'' دنیاسے بے رغبتی اختیار کرنے والوں میں سے ایک زاہد نے یہ اشعار کہے ہیں:وَیَوْمَ تَرَی الشَّمْسَ قَدْ کُوِّرَتْ وَفِیْہِ تَرَی الْاَرْضَ قَدْ زُلْزِلَتْ وَفِیْہِ تَرَی کُلَّ نَفْسٍ غَدًا اِذَا حُشِرَ النَّاسُ مَاقَدَّ مَتْ أَتَرْقُدُ عَیْنَاکَ یَامُذْنِبًا وَاَعْمَالُکَ السُّوْءُ قَدْدُوِّنَتْ فَاِمَّا سَعِیْدٌ اِلٰی جَنَّۃٍ وَکُفَّاہُ بِالنُّوْرِ قَدْخُضِّبَتْ وَاِمَّا شَقِیٌّ کُسِیَ وَجْھُہُ سَوَادًا وَّکُفَّاہُ قَدْ غُلِّلَتْ
ترجمہ:(۱)اس دن تود یکھے گاکہ سورج ماند پڑجا ئے گا ، اور زمین زلزلوں میں ہوگی ۔
(۲)جس دن لوگوں کاحشرہوگاتواس میں دیکھے گاکہ ہرنفس نے کل (قیامت)کے لئے کیاکچھ آگے بھیجا۔
(۳)اے بد کار! تیری آنکھیں سورہی ہیں جبکہ تیرے اعمالِ بد جمع ہورہے ہیں۔
(۴)سعادت مند کاٹھکاناتو جنت ہوگا اور اس کے ہاتھ نور سے معمورہوں گے۔
(۵)اور بد بخت کے منہ پر سیاہی چھائی ہو گی اور اس کے ہاتھ بندھے ہوں گے ۔دنیاوی لذّتوں سے کنارہ کشی:
ایک دن حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ سفر پر روانہ ہوئے۔ جب انہیں سخت گرمی محسوس ہوئی تو انہوں نے عمامہ منگوایا اور اسے سر پر باندھ لیا پھر فورًا ہی اسے اتا ردیا۔ عرض کی گئی:'' اے امیر المؤمنین ! آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عمامہ کیوں اتا ردیا یہ تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گرمی سے بچا رہا تھا ؟'' فرمایا کہ'' مجھے پچھلے زمانہ کے لوگو ں کے یہ اشعار یاد آگئے :