| آنسوؤں کا دریا |
حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ'' اللہ عزوجل نے اپنے ایک نبی علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ جب تم حظیرہ قدس (یعنی جنت)میں رہنا چاہو تودنیا سے کنارہ کش ہوجاؤ اور اس طرح غمگین اور تنہا ہوجاؤ جیسے تنہا رہ جانے والاپرندہ چٹیل زمین میں سایہ پانے والی جگہ پر ہوتا ہے،وہ چشموں کے پانی پر آتا اور درختوں سے پھل کھاتا ہے او رجب رات ہوجاتی ہے تو دیگر پرندو ں سے ڈرتا ہوا تنہا چھپ جاتا ہے اور اپنے رب عزوجل سے اُنس حاصل کرتاہے۔''
حصول ِ عبرت:
حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثوری علیہ رحمۃ اللہ الباری فرماتے ہیں:'' ایک عابد کا گزر کسی راہب کے قریب سے ہوا تو اس نے راہب سے کہا کہ'' اے راہب !تم موت کو کیسے یاد کرتے ہو؟ ''راہب نے جواب دیا:'' میں جب بھی کوئی قد م اٹھا تا ہوں تو دوسرا قد م رکھنے سے پہلے ڈرتا ہوں کہ کہیں مرنہ جاؤں۔'' عابد نے پوچھا:''عبادت کے لئے تمہارا جو ش کیسا ہوتا ہے ؟ ''راہب نے کہا: ''میں نے جنت کے بارے میں جاننے والے کسی شخص کے بارے میں نہیں سنا کہ اسے وقت ملے اور وہ دور کعتیں ادانہ کرے۔'' عا بد نے پوچھا :'' تم راہبو ں کو کیا ہوا ہے کہ تم یہ سیاہ چیتھڑوں کالباس پہنے رہتے ہو؟''راہب نے کہا: ''مصیبت زدہ لوگو ں کا لبا س ایسا ہی ہوتاہے۔'' عابد نے پوچھا:'' اے راہب! کیا ہر راہب مصیبت میں ہے ؟'' راہب نے کہا کہ'' اے میرے بھائی !گنہگاروں کے لئے گناہو ں سے بڑی مصیبت کونسی ہے۔'' اس عا بد کا