Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
117 - 303
آخرت کے طلب گاروں کا راستہ
    اے شخص! تُوکب تک گناہو ں پر اصرار کریگا ؟ تُوگناہوں سے کب توبہ کریگا ؟ ۔۔۔۔۔۔تیر ا جسم کھیل کود میں مشغول ہے او رتیرا دل تقویٰ سے محروم ہونے کی وجہ سے بر باد ہوگیا ہے،۔۔۔۔۔۔ تُو نے اپنی جو انی غفلت میں گزار دی اور اب بڑھاپے میں اپنی جوانی برباد ہونے پر رو رہا ہے ؟۔۔۔۔۔۔ وعظ (یعنی بیان)کی مجلس میں تو تُو فو ت شدہ عمل پر رو تا ہے لیکن جب مجلس سے اٹھتا ہے تو پھر سے گناہوں میں جاپڑتا ہے ،۔۔۔۔۔۔ میرا وعظ تجھ پر کوئی اثر نہیں کرتا(شاید)تجھ پر عبرت کادروازہ بندہوچکا ہے، ۔۔۔۔۔۔ میں کب تک تیرے دل کو سمجھاؤں،حالانکہ میں جانتا ہوں کہ تیرا دل حاضر نہیں،۔۔۔۔۔۔اے غافل دل والے !تو نصیحت کو کیونکر سمجھ سکتا ہے ؟۔۔۔۔۔۔ ہائے افسو س ! اگر تجھے بارگاہ ربُّ العزت عزوجل سے دھتکار دیا گیا تو شیطا ن کتنا خو ش ہوگا، ۔۔۔۔۔۔یہ غمزدوں کے رونے کی جگہ ہے اور یہ مجلس کتنی اچھی ہے کہ تو بہ کرنے والوں کا گروہ اپنے احباب کی طرف کوچ کرگیا ۔ 

    آہ !بارگاہِ رب العزت عزوجل سے دھتکارے ہوئے بندے کی وحشت کا کیا عالم ہوگا کہ وہ قرب خداوندی عزوجل کا کوئی ذریعہ نہ پاسکے گا ،۔۔۔۔۔۔اے اپنے احباب سے کٹ جانے والے ! عا جز ی وانکساری کے ساتھ قافلہ والوں کے قدموں سے وابستہ ہوجا اور گریہ وزاری کرتے ہوئے یوں عر ض کر :''میں وہ ہوں جومحرو می کے جنگل میں بھٹک گیا ہے اور بد بختی کے ویرانے میں تنہارہ گیاہے ،چھپ چھپ کرآنسوبہارہاہے مگر جب اس نے حاضری کا ارادہ کیا اس کو گناہوں کی وجہ سے
Flag Counter