اے راہِ صالحین سے دور رہنے والے ! تجھ پر اپنے نورِ بصارت کی اِصلاح لازم ہے، ۔۔۔۔۔۔ تاریک دل شکوک کے کا نٹو ں پر چل رہاہے اور تُو بے خبر ہے،۔۔۔۔۔۔ توبہ کرنے والا اپنی عمر عبادت میں گزار تا ہے، دن میں روزہ رکھتا ہے اور رات میں عبادت کرتاہے جبکہ آرام پسنداور کاہل آدمی کا وقت غفلت میں گزرتاہے ، اس کی بصیرت غور وتفکر سے بے بہرہ ہوتی ہے کیونکہ جو شخص دنیا سے بے رغبتی کا مزہ چکھ لیتا ہے اسے شب بیداری اوررات میں نماز پڑھنے میں بہت لذت حاصل ہوتی ہے،۔۔۔۔۔۔ اگر تمہیں رات کے اوائل میں تہجد پڑھنے والے نظر نہیں آتے توسحری کے وقت انہیں دیکھ لیا کرو اور غفلت کی نیند سے بیدا ر ہوجاؤ کہ اب تواس بڑھاپے کی فجر طلوع ہوچکی ہے اگر تو بارگاہِ خداوندی عزوجل سے پیچھے رہ گیا تو یہ پیچھے رہ جانا تجھے ذلت میں ڈال دے گا۔