Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
114 - 303
     میں اس جگہ پہنچ گیا،وہاں مجھے ایک ہی بھائی مل سکا۔ میں نے اسے سارا ماجرا بتایاتو وہ کہنے لگا:'' نصف باغ تو میرا ہے لہذا میں آدھا حصہ معا ف کرتا ہوں۔'' میں نے پوچھا : ''میں تمہارے بھائی کو کہا ں ڈھونڈوں؟''اس نے کہا :'' فلاں فلاں جگہ چلے جاؤ۔'' تو میں اس طر ف چل دیا اور اسے جاکر ساراقصہ سنایا تو اس نے کہا کہ'' خدا عزوجل کی قسم ! میں ایک شر ط پر اپنا حق معا ف کروں گا۔'' میں نے پوچھا کہ'' وہ شر ط کیا ہے؟''وہ بولا کہ'' میں تم سے اپنی بیٹی کا نکاح کروں گا اور تمہیں سودیناردوں گا ۔'' میں نے کہا :'' افسوس کہ مجھے اس کی بالکل حاجت نہیں کیا آپ نہیں جانتے کہ اس ایک پھل کی وجہ سے مجھے کتنی پریشانی ہوئی ہے لہذا میرے لئے کوئی اورحل تلاش کریں ۔'' انہوں نے کہا کہ'' خداعزوجل کی قسم !میں اس شر ط کے بغیر ایسا نہیں کروں گا۔''

     جب میں نے ان کا اصرار دیکھا تو ان کا مطالبہ تسلیم کرلیا اور کہا: ''ٹھیک ہے۔'' انہوں نے مجھے سو دینا ر دئیے اور کہا:'' اس میں سے جتنے چاہو میری بیٹی کے مہر کے طو ر پر دے دو۔'' میں نے سارے دینارواپس کردئیے۔مگر انہوں نے کہا کہ'' سارے نہیں کچھ دینار دے دو۔''پھرجب انہوں نے اپنی بیٹی کا نکاح مجھ سے کردیا تو لوگوں نے اسے اس بات پر ملامت کی کہ'' جب ارباب ِاختیار اور بڑے لوگوں نے تمہاری بیٹی کے لئے پیغام بھیجا تھا تو تم نے انہیں اپنی بیٹی نہیں دی ،تو اس فقیر کو کیوں دے دی جس کے پاس بالکل مال نہیں ہے ؟''تو انہوں نے لوگو ں سے کہا: ''اے لوگو !میں نے پرہیز گاری اور تقویٰ کو ترجیح دی ہے کیونکہ یہ شخص اللہ عزوجل کے نیک بندوں میں سے ہے۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)