| آنسوؤں کا دریا |
''نہیں ۔'' میں نے پوچھا :'' وہ کیوں ؟'' جواب دیا :'' اس لئے کہ روناتو دل کی راحت وسکون کے لئے ہوتا ہے جبکہ عقلمند وں کے ہاں یہ ایک معیوب شئے ہے ۔''میں نے اس سے کہا :'' مجھے کوئی ایسی نصیحت کیجئے جس کے ذریعے اللہ عزوجل مجھے نفع عطا فرمائے ۔'' کہنے لگی:'' اپنے مولا عزوجل کی ملاقات کے شو ق میں عبادت کیجئے کیونکہ اس نے اپنے اولیاء کی ملاقات کے لئے ایک دن (یعنی قیامت کا دن) مقر ر کر رکھاہے، اللہ تبارک وتعالیٰ نے انہیں دنیا میں اپنی محبت کا ایسا جا م پلادیا جس کے بعد انہیں کبھی پیاس نہ لگی ۔''پھر وہ روتے ہوئے کہنے لگی:'' یا الٰہی عزوجل! تومجھے کب تک اس دنیا میں رکھے گا جہاں میرا کوئی ہمددر نہیں جو مشکلات میں میرا ساتھ دے سکے ۔'' پھر یہ شعرپڑھنے لگی:
اِذَا کَانَ دَاءُ الْعَبْدِ حُبَّ مَلِیْکِہِ فَمَنْ دُوْنَہُ یُرْجٰی طَبِیْبًا مَدَاوِیًا
ترجمہ: جب بندے کامرض اپنے مالک کی محبت ہو تو اس کے علاوہ وہ کس طبیب سے علاج کی توقع رکھے ۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
میرے پیارے اسلامی بھائی!
اگر تیرے مولا عزوجل نے تجھے اپنی بارگاہ سے دور کردیا توتُو کس کے دروازے پر جائے گا؟ اور کون سے راستے پر چلے گااور کس جانب کاارادہ کریگا ؟ اپنے مولیٰ کا دروازہ پکڑتاکہ تیری واپسی تیرے لئے فائدہ مندہو ۔
چند اشعارحَنِیْنُ قُلُوْبِ الْعَارِفِیْنَ اِلٰی الذِّکْرِ وَتَذْکَارُھُمْ عِنْدَ الْمُنَاجَاۃِ بِالسِّرِّ