ہرحال میں کافی ہے ،مصیبتوں کے وقت و ہی سہارادینے والاہے ۔
(۷)نہ زندگی پاکیزہ گزررہی ہے ، نہ وعدہ پورا ہوپارہاہے ،نہ اس شے کاانتظارہے جو غم کودورکردے،اورنہ ہی صبرنفع دے رہا ہے ۔
(۸)میں دیکھ رہاہوں کہ زمانہ لمحہ بہ لمحہ گزر رہاہے اورجس کی طرف (آخرت کے) حریص مائل ہیں میں اس کی تیاری نہ کرسکا۔
(۹) اگرمیں اپنے محبوب سے بالشت برابردوری اختیارکروں تویہ انتہادرجہ کی دوری ہوگی کہ محبت میں یہ (بالشت برابردوری)بھی بڑی ہوتی ہے ۔
نیک خاتون:
حضرتِ سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں کہ'' میں نے ایک عبادت گزار عورت کو دیکھا ۔جب میں اس کے قریب پہنچا تو اس نے مجھے سلام کیا، میں نے سلام کا جواب دیا تو اس نے پوچھا : ''آپ کہاں سے آرہے ہیں ؟ ''میں نے کہا کہ'' اس حکمت والے کے پاس سے جس کی مثل کوئی نہیں۔'' تو اس نے ایک زوردار چیخ ماری پھربولی کہ'' تم پر افسوس ہے کہ تم نے اس کی بارگاہ میں اجنبیت کی وحشت کیسے محسوس کی کہ اس سے جدا ہوگئے حالانکہ وہ تو اجنبیوں کو اُنس پہنچا نے والا ، کمزوروں کا مدد گار اور آقاؤں کا آقا ہے ،تم نے اپنے آپ کو اس سے جدائی پر کیسے راضی کرلیا ؟''
میں اس عورت کا کلام سن کر رونے لگا تو اس نے پوچھا : ''کیوں رو رہے ہو؟'' میں نے کہا :''زخم پر مرہم رکھ دیا گیا تو وہ جلد ہی بھر گیا۔'' وہ کہنے لگی:'' اگر تم سچے ہوتے توکیوں روتے؟'' میں نے پوچھا :''کیا سچا نہیں روتا ؟''اس نے جواب دیا: