Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
106 - 303
    اے شخص !تُو کب تک اولیاء رحمہم اللہ تعالیٰ کے فقط حالات ہی سنتا رہے گا او ران کے نقش قدم پر چلنے سے کترائے گا،۔۔۔۔۔۔ تو بہ کرنے والو ں کی صحبت اختیار کرلے ،شاید تُو بھی ان کے راستے پر چل پڑے ،۔۔۔۔۔۔اے دھتکارے ہوئے شخص! خدا عزوجل کی بارگا ہ میں رونے والوں سے سبق سیکھ،۔۔۔۔۔۔ جو لوگ بارگاہ خدا وندی عزوجل میں گریہ وزاری کرتے ہیں وہ بھی توتیرے جیسے ہی انسان ہیں ،۔۔۔۔۔۔اے بارگاہِ الٰہی عزوجل سے دور ہوجانے والے ! اللہ عزوجل کی بارگاہ میں معافی مانگ لے شاید تو رسوائی سے بچ جائے۔ 

    میرے بھائی!بڑے تعجب کی بات ہے میں کب تک دُور ہوجانے والے کو ملامت کرتا رہوں گا اور یہ ملامت کب تک فائد ہ دے گی ، میں کب تک غافل ہوجانے والے کو پکارتارہوں گا کہ کا ش! وہ پکار کو سن لے، میں کب تک تجھے نصیحت کروں گا اور تیرے قبول کرنے کے لالچ میں رہوں گا۔

    اے خشک آنکھوں والے! تیری آنکھ کبھی نہ روئی ،۔۔۔۔۔۔یادرکھ کہ آخرت کی رُسوائی کی ایک علامت دل میں خوف کا نہ ہونابھی ہے،۔۔۔۔۔۔ تیرا دل فانی دنیا کی محبت میں لگ گیااور تو حرام کو جمع کرنے لگا، ۔۔۔۔۔۔اے غافل! یاد رکھ کہ ایسا مال جمع کرنے کا حساب تجھی سے ہوگا حالانکہ تو اسے اپنوں کے لئے چھوڑ جائے گا جو تجھے کچھ نفع نہیں دیں گے ،۔۔۔۔۔۔تو کھیل کود میں ہی مشغول رہتاہے حالانکہ تجھے بتا یا جاتا ہے کہ'' فلاں شخص دنیا سے کو چ کر گیا اور اس کی واپسی کی کوئی امید نہیں ۔ ''
تنہائی میں محاسبۂ نفس:
    حضرتِ سیِّدُنا علی بن ابو صالح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں عبادت
Flag Counter