Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
107 - 303
گزاروں اور زاہدوں کی تلاش میں'' لکام'' پہاڑ پر گھوم رہا تھا کہ مجھے ایک جگہ بو سیدہ اور پیوند لگے ہوئے لباس میں ملبو س ایک شخص کسی چٹان پر بیٹھا ہوا نظر آیا ۔اس نے گردن جھکارکھی تھی میں نے پوچھا :'' آپ یہاں کیاکر رہے ہیں؟'' جواب دیا: ''نگہبانی اور دیکھ بھال کررہا ہوں۔'' میں نے کہا کہ'' آپ کے سامنے تو پتھر اور کنکر یاں ہیں، کس چیز کی دیکھ بھال کررہے ہیں ۔''فرمایا :'' میں اپنے دل کے خیالات کی نگہبانی کررہا ہوں اور اپنے رب عزوجل کے احکام کی حفاظت کررہاہوں ۔'' پھر کہنے لگے ''تجھے اس ذات پاک کی قسم جس نے تجھے میرے سامنے ظاہر کیاہے! یہا ں سے چلاجا کیونکہ تو نے میری تو جہ اپنے آقا کی طر ف سے ہٹا دی ہے۔'' میں نے عرض کیا:'' مجھے کوئی نصیحت فرمائیں تا کہ میں اس سے نفع اٹھا سکوں۔'' فرمایا:'' جو دروازے پر پڑا رہتا ہے وہ اپنی خدمت ثابت کردیتا ہے اورجو کثرت سے گناہوں کویاد کرتاہے وہ بہت زیادہ ندامت کا اظہار کرتاہے اور جو اللہ عزوجل کے علاوہ دوسروں سے بے پرواہ ہوجاتا ہے اسے محتا جی کا خوف نہیں ہوتا ۔''پھر وہ وہاں سے چلے گئے ۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)