Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
105 - 303
    میں نے سوچا کہ شاید یہ شیطا ن تھا ۔تو ایک آواز آئی: ''نہیں! بلکہ یہ دیوانہ تھا ۔'' میں نے بلند آواز سے التجاکی :'' اے فلاں ! میں تجھے اس ذاتِ پاک کا واسطہ دیتا ہوں جس نے حضرتِ سیِّدُنا محمدمصطفی ،احمدمجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبی بر حق بناکر بھیجا ہے ، ذرا میری بات سنئے۔''تو انہوں نے کہا :'' اے جوان ! تو خود بھی تھکا اور مجھے بھی تھکادیا۔''میں نے کہا :'' میں آپ کو اکیلا پاکرآپ کی خدمت کے لئے حاضر ہوا تھا ۔'' انہوں نے فرمایا:'' جس کے ساتھ خداعزوجل ہو وہ اکیلا کیسے ہوسکتا ہے ؟''میں نے پوچھا:'' مجھے آپ کے پاس کوئی تو شہ بھی نظر نہیں آیا ۔''تو انہوں نے فرمایا:'' جب مجھے بھوک لگتی ہے تو ذکر ِالٰہی عزوجل میرا تو شہ بن جاتا ہے اور جب مجھے پیاس لگتی ہے تو اللہ عزوجل کادیدار میرا سوال اور مطلوب بن جاتا ہے۔'' میں نے عرض کی :'' مجھے بھوک لگی ہے کھانا کھلادیجئے۔'' تو انہوں نے پوچھا :''کیاتم اولیاء کی کرامات کو نہیں مانتے ؟'' میں نے کہا :''کیوں نہیں !مگر میں اطمینان ِقلب کے لئے یہ باتیں پوچھ رہاہوں۔''

     انہوں نے اپنا ہاتھ ریتلی زمین پر مارااور ایک مٹھی بھر کر میری طرف بڑھائی اور کہنے لگے :'' اے دھوکا کھانے والے ! لوکھاؤ۔'' میں نے دیکھا کہ وہ مٹی لذیذ ترین ستو بن چکی تھی، میں نے کہا: ''کتنے لذیذ ہیں۔'' تو وہ بولے:'' بیابان میں اولیاء کو ایسی بہت سی نعمتیں میسر ہیں،اگر تو سمجھے ۔'' میں نے عرض کی :'' مجھے پانی بھی پلائيے۔''تو انہوں نے اپنا پاؤں زمین پرمارا تو شہد اور پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا ۔میں پانی پینے کے لئے چشمے پر بیٹھ گیاپھر جب میں نے سر اٹھایا تو وہ مجھے نظر نہ آئے۔نہ جانے وہ کہاں غائب ہوگئے۔ لہذا اس دن سے میں فقراء کی خدمت میں مصروف ہوں شاید اس جیسے کسی ولی کی زیارت کرسکوں ۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)