Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
103 - 303
تقویٰ ومجاہدہ باعثِ نجات ہے
    اے شخص! کب تک عبادت گزاروں اور زاہدوں کالبادہ اوڑھے رکھے گا، حالانکہ تو اپنے دل کی غفلت کو خوب جانتا ہے،۔۔۔۔۔۔ تیرا ظاہر تو صاف ستھرا ہے مگرباطن لمبی امیدوں سے آلودہ ہے ،۔۔۔۔۔۔جسے مال کی محبت اپنی طر ف مائل کرلے وہ خدا عزوجل کی محبت کے قابل نہ رہا ،۔۔۔۔۔۔اگر مجاہدہ کی مشقت نہ ہوتی تو لوگوں کو ''باکمال مرد'' کانام نہ دیا جاتا ۔اے مردہ دل ! اگر تُوجو انی میں نیکیوں کی طر ف مائل نہ ہوسکا تو ادھیڑپن ہی میں مائل ہوجا ،کیونکہ سر سفید ہوجانے کے بعد کھیل کُود بے سُود ہے اور بڑھاپے میں سرکشی زیادہ بری ہے ، ۔۔۔۔۔۔ جب تجھ سے کہا جائے گا کہ'' تُونے جوانی کو غفلت میں ضائع کردیا اور اب بڑھاپے میں (نیک)اعمال کی کمی پر روتاہے''،۔۔۔۔۔۔ اگر تُو جان لیتا کہ تیرے لئے کونسا عذاب تیار ہوچکاہے تو تُو ساری رات رونے میں گزار دیتا۔
بارگاہِ الٰہی عزوجل میں حاضری کا انداز :
    ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃ اللہ القوی وعظ فرمارہے تھے کہ ایک شخص نے عرض کیا :'' حضور ! جب بھی میں اپنے رب عزوجل کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہوں تو کوئی نہ کوئی مصیبت یا پریشانی مجھے گھیر لیتی ہے،میں کیا کرو ں ؟'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ'' اپنے مولا عزوجل کے در پر اس طر ح حاضر ہوا کرو جیسے چھوٹا بچہ اپنی ماں کے پاس آتا ہے کہ اس کی ماں اسے مارے توبھی وہ اپنی ماں ہی کی طر ف لپکتا ہے اور جب بھی وہ اسے جھڑ کتی ہے وہ اسی کے پاس جاتا ہے اورباربار ایسا کرتا
Flag Counter