اے شخص! کب تک عبادت گزاروں اور زاہدوں کالبادہ اوڑھے رکھے گا، حالانکہ تو اپنے دل کی غفلت کو خوب جانتا ہے،۔۔۔۔۔۔ تیرا ظاہر تو صاف ستھرا ہے مگرباطن لمبی امیدوں سے آلودہ ہے ،۔۔۔۔۔۔جسے مال کی محبت اپنی طر ف مائل کرلے وہ خدا عزوجل کی محبت کے قابل نہ رہا ،۔۔۔۔۔۔اگر مجاہدہ کی مشقت نہ ہوتی تو لوگوں کو ''باکمال مرد'' کانام نہ دیا جاتا ۔اے مردہ دل ! اگر تُوجو انی میں نیکیوں کی طر ف مائل نہ ہوسکا تو ادھیڑپن ہی میں مائل ہوجا ،کیونکہ سر سفید ہوجانے کے بعد کھیل کُود بے سُود ہے اور بڑھاپے میں سرکشی زیادہ بری ہے ، ۔۔۔۔۔۔ جب تجھ سے کہا جائے گا کہ'' تُونے جوانی کو غفلت میں ضائع کردیا اور اب بڑھاپے میں (نیک)اعمال کی کمی پر روتاہے''،۔۔۔۔۔۔ اگر تُو جان لیتا کہ تیرے لئے کونسا عذاب تیار ہوچکاہے تو تُو ساری رات رونے میں گزار دیتا۔