Brailvi Books

آنسوؤں کا دریا
101 - 303
 سب اس لئے کررہے ہیں کہ آپ نے مجھے اللہ عزوجل کے ساتھ مناجات کرتے ہوئے دیکھ لیا ہوگا، ورنہ آپ ان غلاموں میں سے میرا ہی انتخاب کیوں کرتے؟'' میں نے کہا :''بس ،مجھے تم سے ایک یہی حاجت ہے۔'' اس نے کہا: ''میں آپ کو اللہ عزوجل کی قسم د ے کراس حاجت کے بارے میں پوچھتا ہوں ۔''تو میں نے بتایا کہ ''میں نے تمہیں تمہاری دعاکی مقبولیت کی وجہ سے خریدا ہے۔'' اس نے کہا :''میرا آپ کے بارے میں حسن ِ ظن ہے کہ آپ ایک نیک آدمی ہیں، اللہ عزوجل اپنی مخلوق میں کچھ بندوں کو چن لیتا ہے جن کے اَحوال اپنے محبوب بندو ں ہی پر ظاہر فرماتاہے اورانہی بندوں پر ظاہر فرماتاہے جن سے وہ راضی ہوتا ہے۔'' پھر وہ کہنے لگا:'' کیا آپ کچھ دیر میرا انتظار کریں گے، میری رات کی کچھ رکعتیں باقی ہیں،میں وہ ادا کرنا چاہتا ہوں ۔''میں نے اس سے کہا: ''حضرتِ سیِّدُنا فضیل بن عیاض رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا گھر قریب ہی ہے وہاں ادا کر لینا :''اس نے کہاکہ'' میں یہیں نماز پڑھنا پسند کرتاہوں کیونکہ اللہ عزوجل کے احکام بجالانے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔'' چنانچہ وہ مسجد میں داخل ہوا اور دیر تک نماز میں مشغول رہا پھر میرے پاس آکر بولا :'' اے ابو عبدالرحمن ! کیا آپ کو کوئی حاجت ہے ؟'' میں نے پوچھا '' وہ کیوں ؟ ''اس نے کہا: ''اس لئے کہ میں واپس جانا چاہتاہوں۔'' میں نے پوچھا:'' کہا ں جانا چاہتے ہو ؟'' کہا:'' آخرت کی طرف۔'' میں نے کہا :''ایسا نہ کرو میں تم سے نفع تو اٹھالوں ۔''تو اس نے مجھ سے کہا:'' جب تک معاملہ میرے اور اللہ عزوجل کے درمیان تھا 'اس وقت تک مجھے زندگی پسند تھی مگر اب جبکہ آپ بھی اس پر مطلع ہوگئے ہیں تو عنقریب اور بھی بہت سے لوگ جان لیں گے لہذا مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں۔'' پھر وہ منہ کے بل گر کر دعا مانگنے لگا:'' یاالٰہی عزوجل!