Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
99 - 361
علم حدیث میں مہارت: 
(9695)…حضرت سیِّدُنا عبد الرحمٰن بن مہدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں: بارہاایسا ہوتاکہ ہم حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی خدمت میں  ہوتے تو  گویا آپ روزِ جزا کا حساب دینے کے لئے کھڑے ہیں، ہمیں ان سے کچھ پوچھنے کی ہمت نہ ہوتی ، لہٰذا ہم حدیث شریف کاذکر شروع کردیتے پس جب حدیث شریف کا معاملہ آتا تو آپ کی وہ خشوع والی کیفیت جاتی رہتی پھر تو بس حدیث ہی بیان  ہوتی رہتی ۔ 
(9696)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ  میں حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے پاس بیٹھتا تو وہ احادیث بیان کرتے ، میں دل میں کہتا :  ” میں نے ان کا تمام علم سن لیااب کچھ باقی نہیں بچا۔  “ مگر پھرجب  دوسری مجلس میں ان کے پاس حاضر ہوتا  توآپ  پھراحادیث  بیان کرتے ، پس میں کہتا:  ” میں نے اِن کے علم سے کچھ سنا ہی نہیں ۔  “  
آبِ زم زم کے تین ذائقے : 
(9697)… ہَرات کے ایک شیخ اوربڑے سچے بزرگ حضرت سیِّدُنا عبداللہ ہَرَوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ  لِی نے فرمایا:  میں سحر کے وقت زمزم شریف کے کنوئیں پر آیاتو دیکھا کہ ایک بزرگ کنویں میں موجود ڈول سے آبِ زمزم نکال رہے ہیں، زمزم پینے کے بعدانہوں نے ڈول  واپس کنویں میں ڈال دیا، میں نے اُسے لے کر باقی ماندہ پیا تو وہ بادام کا ستوتھا، میں نے بادام کاایسالذیذ ستو پہلے کبھی نہیں پیا۔ اگلی رات میں پہلے سے انتظار کرنے لگا، جب وہی وقت ہوا  تو وہ بُزرگ اپنے چہرے پرکپڑاڈالے زمزم پرآئے اوراُس میں موجودڈول  سے پانی نکال کرپیااورڈول واپس کنویں میں ڈال دیا، میں نے ڈول لے کربچاہواپیاتووہ شہدملاپانی تھا، میں نے اس سے زیادہ مزیدارشہدکبھی نہیں پیاتھا۔ میں چاہتاتھاکہ کپڑاہٹا کردیکھوں کہ یہ کون بزرگ ہیں ؟لیکن وہ مجھے چھوڑکرجاچکے تھے ۔ تیسری رات آئی تو میں زمزم کے دروازے کے سامنے بیٹھ گیا، جب وہ وقت ہواتووہ بزرگ چہرے پرکپڑاڈالے تشریف  لے آئے  اورمیں نے اندرآکران کے کپڑے کاایک کوناپکڑلیا، انہوں نے پانی پی کرجب ڈول چھوڑاتومیں نے عرض کی: اے بُزرگ ! میں  آپ کو اس خانہ کعبہ کے رب  کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ آپ کون ہیں ؟فرمانے لگے : کیا تم میرے مرنے تک اس بات کوپردے میں رکھو گے ؟ میں نے عرض: جی ہاں۔ فرمایا:  میں سفیان بن سعید ثوری ہوں۔