سے زیادہ 18سال ہے (1)پھر اگر حدود کا معاملہ ہو تو زیادہ مدت کو لیا جائے گا۔
(9691)…حضرت سیِّدُناضَمْرَہ بن ربیعہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے جب نبیذ کے بارے میں سوال کیا جاتا تو فرماتے : انجیر کھاؤ ، انگور کھاؤ۔
مردہ زندوں سے بہتر:
(9692)…حضرت سیِّدُناوکیع عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَدِیْع فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے یہ اشعارسنے :
غَلَبَ الْفَيْءُ عَلَى الْفَيْءِ فَمَا لِلْخَلْقِ مِنْ شَيْءٍ
فَاَصْبَحَ الْمَيِّتُ فِيْ قَبْرِهِ اَحْسَنَ حَالًا مِنَ الْحَيِّ
ترجمہ: حکمران مال پرغالب آگئے اورمخلوق کے لئے کچھ نہیں بچا، اس لئے مردہ اپنی قبرمیں زندہ سے زیادہ اچھی حالت میں ہے ۔
(9693)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا: بندہ جب پکافاسق ہوجاتاہے تواپنی آنکھوں پرقابو پالیتا ہے پھر جب چاہتا ہے توان سے رو لیتا ہے ۔
(9694)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: یہ بات آدمی کی سعادت مندی سے ہے کہ اس کا بیٹا اس سے مشابہت رکھتا ہو ۔
________________________________
1 - احناف کے نزدیک: لڑکے کو جب انزال ہوگیا وہ بالغ ہے وہ کسی طرح ہو سوتے میں ہو جس کو احتلام کہتے ہیں یا بیداری کی حالت میں ہو اور انزال نہ ہو تو جب تک اس کی عمر پندرہ سال کی نہ ہو بالغ نہیں جب پورے پندرہ سال کا ہوگیا تو اب بالغ ہے علاماتِ بلوغ پائے جائیں یا نہ پائے جائیں ، لڑکے کے بلوغ کے لیے کم سے کم جو مدت ہے وہ بارہ سال کی ہے یعنی اگر اس مدت سے قبل وہ اپنے کو بالغ بتائے اس کا قول معتبر نہ ہوگا۔ لڑکی کا بلوغ احتلام سے ہوتا ہے یا حمل سے یا حیض سے ان تینوں میں سے جو بات بھی پائی جائے تو وہ بالغ قرار پائے گی اور ان میں سے کوئی بات نہ پائی جائے تو جب تک پندرہ سال کی عمر نہ ہو جائے بالغ نہیں اور کم سے کم اس کا بلوغ نوسال میں ہوگا اس سے کم عمر ہے اور اپنے کو بالغہ کہتی ہو تو معتبر نہیں۔ لڑکے کی عمر بارہ سال یا لڑکی کی نو سال کی ہو اور وہ اپنے کو بالغ بتاتے ہیں اگر ظاہرِ حال ان کی تکذیب نہ کرتا ہوکہ ان کے ہم عمر بالغ ہوں تو ان کی بات مان لی جائے گی۔ (بہارشریعت، حصہ۱۵، ۳ / ۲۰۳)