پھر میں نے انہیں جانے دیا اور ڈول سے ان کا بچا ہوا پیا تو وہ شکر ملا دودھ تھا، میں نے اس جیساعمدہ دودھ پہلے کبھی نہ پیا تھااورجب میں وہ مشروب پی لیتا تھا تو وہ مجھے کافی ہوجاتا تھا ، پھر مجھے بھوک پیاس کا احساس نہیں ہوتا تھا۔
(9698)…سیِّدُناعُبَیْدبن ہشامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ میں زمزم کے کنویں پر آیا تو وہاں ایک بزرگ کو پایا، انہوں نے ڈول میں تین بار پانی بَھر کر پیا پھر زمزم میں جھانک کر دیکھا ، مجھے لگا کہ وہ دعا کر رہے ہیں پھر وہ چلے گئے ۔ میں پانی پینے کے لئے ڈول کے پاس آیاتواس میں دودھ دیکھا، میں نے ڈول کووہیں چھوڑااوران بزرگ تک جا پہنچا، ان سے عرض کی: اللہ عَزَّ وَجَلَّآپ پررحم فرمائے ، آپ کون ہیں؟توانہوں نے فرمایا: میں سفیان بن سعید ہوں۔
دشمنانِ شیخین پرکتے کامسلط ہونا:
(9699)…حضرت سیِّدُنامَخْلَد بن خُنَیْسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکوفرماتے سنا: میرے مسجدکے راستے میں ایک کتالوگوں کوکاٹاکرتاتھا، ایک دن میں نماز کے ارادے سے نکلا تو کتا راستے میں موجود تھا، میں اُس سے دور ہوا توکُتا بولا: ابو عبداللہ!آپ جائیے ، مجھے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا ابوبکروحضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو گالی دینے والوں پر مسلط کیا ہے ۔
دیدارِ الٰہی کی نعمت:
(9700)…سیِّدُناقَبِیْصَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُناسفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکو خواب میں دیکھ کر پوچھا: مَا فَعَلَ اللہُ بِکَ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟تو انہوں نے یہ اشعار پڑھے :
نَظَرْتُ اِلٰى رَبِّيْ كِفَاحًا فَقَالَ لِيْ هَنِيْئًا رِضَائِيْ عَنْكَ يَا ابْنَ سَعِيْدِ
فَقَدْ كُنْتَ قَوَّامًا اِذَا اَقْبَلَ الدُّجَى بِعَبْرَةِ مُشْتَاقٍ وَقَلْبِ عَمِيْدِ
فَدُوْنَكَ فَاخْتَرْ اَيَّ قَصْرٍ اَرَدْتَهُ وَزُرْنِيْ فَاِنِّيْ مِنْكَ غَيْرُ بَعِيْدِ
ترجمہ: (۱)…میں نے اپنے رب تعالیٰ کاکھلم کھلا دیدار کیا، اس نے مجھ سے فرمایا: اے ابن سعید!تجھے میری رضا و خوشنودی مبارک ہو۔ (۲)…تم طلبگار والے آنسواور بیمارِ عشق والے دل کے ساتھ رات کے اندھیرے میں بہت زیادہ قیام کرتے تھے ۔ (۳)…تم اپنے لئے جومحل چاہو لے لو اور میرادیدار کرتے رہو کیونکہ میں تم سے دور نہیں ہوں۔