Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
97 - 361
ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: تم میں سے جو کام کرے گا ہم اس کی تعریف کریں گے اورجوکام نہیں کرے گاہم اسے بُراکہیں گے ۔ اورفرمایا: اے گروہ علما!اپنے سروں کوبلند رکھو اوردل میں موجود عاجزی سے زیادہ عاجزی ظاہرنہ کرو، نیکیوں میں سبقت کرواورلوگوں پر بوجھ نہ بنو، پس  راستہ واضح ہے اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا:  جو لوگوں کی کمائی پر زندگی گزارتا ہے وہ کسی اور کی زمین پر درخت لگانے والے کی مانند ہے ۔ 
	اے میرے بھائی!اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے ڈروجوبھی لوگوں سے کوئی چیزلیتاہے وہ لوگوں میں حقیراورذلیل ہو جاتا ہے حالانکہ اہْلِ ایمان تو زمین میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے گواہ ہیں، تم حرام کماکر اسے اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کی فرمانبرداری والے کاموں میں خرچ کرنے سے بچوکیونکہ اس کاترک کرنافرض ہے جسے اللہ عَزَّ   وَجَلَّنے لازم کیاہے اوربے شک  وہ پاک  ہے اورپاک ہی  کوقبول فرماتاہے ، کیاتم نے کسی کودیکھاہے جس کے کپڑوں پرپیشاب لگ جائے پھروہ اسے پاک کرنے کے لئے پیشاب ہی سے دھوئے ؟تم کیا سمجھتے ہو کہ یہ اُسے پاک کردے گا ؟ ہر گز نہیں! کیونکہ گندگی کو پاک شے ہی صاف کرتی ہے یوں ہی بُرائی کو نیکی ہی مٹاتی ہے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پاک ہے اور پاک ہی کوقبول فرماتا ہے اورحرام کسی بھی عمل میں قبول نہیں کیاجاتایاایساہوسکتاہے کہ کسی نے گناہ کیاپھراسے کسی گناہ سے مٹایا ہو؟ 
جھوٹے کی حدیث قبول نہیں: 
(9687)…عبداللہبن عبدالرحمٰن کابیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا:  ” جس نے جھوٹ بولااس کی حدیث قابلِ قبول نہیں۔  “ اورمیں نے حضرت وکیع عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَدِیْع کویہ فرماتے ہوئے سناکہ  ” یہ حدیث ایسا سامانِ تجارت ہے جس میں سچا آدمی ہی آگے بڑھتا ہے ۔  “ 
(9688)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں: میں حدیث کو سات مختلف طریقوں سے لکھتا ہوں جبکہ معنیٰ ایک ہی رہتا ہے ۔ 
 (9689)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:  جس کی عمرحضور نبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ظاہری عمرشریف  کو پہنچ جائے اسے اپنے لئے کفن تیار کر لینا چاہئے ۔ 
(9690)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: بلوغت کی کم از کم مدت 14سال اور زیادہ