Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
96 - 361
فَلْیَفْرَحُوْاؕ-هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ(۵۸)(پ۱۱، یونس: ۵۸)	اور اسی پر چاہئے کہ خوشی کریں وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے ۔
	حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے ان سے کہا:  ابوعلی!خدا کی قسم! ہم اُس وقت تک خوش ہی نہیں ہوسکتے جب تک قرآنِ مجید کی دوا لے کر دل کی بیماری  کا علاج نہ کریں ۔ 
لوگوں پر بوجھ نہ بنو: 
(9686)…حضرت سیِّدُنا ابوحماد مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں:  حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے حضرت سیِّدُنا علی بن حسنرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا:  اے میرے بھائی:  پاکیزہ روزی اور اپنے ہاتھ کی کمائی تم پر لازم ہے ، لوگوں کے میل کچیل کھانے یا پہننے سے بچو کیونکہ جو لوگوں کا میل کچیل کھاتا ہے اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اوپری منزل کامالک ہواور نچلی منزل اُس کی نہ ہو تو ایسا شخص ہر وقت خوفزدہ رہتا ہے کہ کہیں نیچے والی منزل  نہ گرجائے اور اوپروالا حصہ منہدم ہو جائے ۔ لہٰذا لوگوں کا میل کھانے والا جھک کربات کرتا ہے اور لوگوں کے سامنے عاجزی کرتا ہے کہ کہیں وہ اُس  سے اپنا مال نہ روک لیں۔ 
	اے میرے بھائی!اگر تم نے لوگوں سے کچھ لیا تو گویا تم نے اپنی زبان کاٹ دی ، اب قیامت میں پیش آنے والے معاملے کے باوجود تم کچھ لوگوں کو عزت دو گے  اور کچھ کوذلیل کرو گے ۔ پس جو تجھے اپنے مال سے کچھ دیتا ہے وہی اس کا میل ہے اور اس کے میل کامطلب اس کا اپنے عمل کو گناہوں سے پاک کرنا ہے ۔ اگر تم نے لوگوں سے کچھ لیا اورپھرانہوں نے تمہیں بُرائی کی طرف بلایا تو تم ان کی بات مان  لو گے ۔ لوگوں کا میل لینے والااُس شخص کی طرح ہے جوکسی چیزمیں اوروں کے ساتھ شریک ہواوراُسے اُن کے ساتھ حصہ داری کرنی پڑے ۔ 
	اے میرے بھائی!بھوکارہ کرتھوڑی عبادت کرنالوگوں کے میل سے اپناپیٹ بھرکرزیادہ عبادت کرنے سے بہتر ہے ۔ ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ حضورنَبِیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ” اگر تم میں سے کوئی رسی لے پھر لکڑیاں جمع کر کے انہیں اپنی پیٹھ پر لادے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اپنے بھائی کے پاس کھڑا ہوکر اس سے سوال کرے یا اس سے امیدلگائے ۔ (1) “ اورہمیں یہ روایت بھی پہنچی 



________________________________
1 -    بخاری، کتاب الزکاة، باب الاستعفاف عن المسألة، ۱ / ۴۹۶، حدیث:  ۱۴۷۰