Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
94 - 361
 معن بن زائدہ نے کہہ رکھا تھا کہ ” اگر حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمیرے پاس آئیں گے تومیں انہیں ایک لاکھ درہم دوں گا۔  “ ہم نے حضرت سیِّدُناسفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے عرض کی: آپ کواُس کے پاس جاکرسلام کرآناچاہیے ۔ توآپ نے فرمایا: مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ ایک مقام یاایک بولاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کوناراض کر سکتا ہے لہٰذا مجھے پسندنہیں  ہے کہ ایسی جگہ کھڑا ہوؤں یا ایسا بول بولوں جواللہ عَزَّ  وَجَلَّ کومجھ سے ناراض کردے ۔ 
دل بدلنے والا کھانا: 
(9678)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ حضورنبی اکرم ، نُوْرِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ارشاد فرمایا:  میرے بعدحکمرانوں کا کھانا دجال کے کھانے جیسا ہو گاکہ اگر کوئی شخص اسے کھائے گا تواس کا دل بدل جائے گا۔ (1) 
(9679)…حضرت سیِّدُنا یعلیٰ بن عُبَیْدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:  اگر تمہارے ساتھ کوئی ایسا شخص ہو جو تمہاری بات بادشاہ تک پہنچادے گا تو کیا تم کوئی غلط بات کرتے ؟ ہم نے کہا:  نہیں۔ آپ نے فرمایا: بے شک تمہارے ساتھ کوئی ایسا ہے جو بات پہنچاتا ہے (یعنی فرشتے تمہاری باتیں بارگاہِ الٰہی تک پہنچاتے ہیں)۔ 
(9680)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے مجھے خط لکھا:   ” اپنے علم کو پھیلاؤ اور شہرت سے اجتناب کرو۔  “ 
اپنے دین کی فکرکرو: 
(9681)…حضرت سیِّدُناوکیع عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَدِیْع بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:  آخری  زمانے میں عبادت گاہوں کو لازم پکڑ لینابے شک تمہاری عبادت گاہیں تمہارے گھر ہیں۔ حضرت سیِّدُنا وکیع عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَدِیْع فرماتے ہیں: ایک بارحضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کو بھنا ہوا گوشت کھاتے دیکھاگیا۔ اس وقت آپ نے ارشاد فرمایا:  میں نے تمہیں کھانے سے نہیں روکا، بس یہ دیکھ لیا 



________________________________
1 -    موسوعة ابن ابی الدنیا، کتاب الجوع، ۴ / ۱۱۹، حدیث:  ۲۳۵