Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
93 - 361
شیر کااطاعت کرنا: 
(9674)…سیِّدُناسفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا: ایک مرتبہ میں اورحضرت شَیْبان راعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ    لِیحج کے ارادے سے پیدل روانہ ہوئے ۔ ابھی تھوڑا ہی راستہ طے کیاتھاکہ اچانک ایک شیرہمارے سامنے آگیا۔ میں نے حضرت شیبان راعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیسے کہا: کیاآپ اِس درندے کونہیں دیکھتے جوہمارے سامنے آکھڑاہوا ہے ؟ تو انہوں نے مجھ سے کہا: ڈرومت۔ پھرانہوں نے شیرکوآوازدے کربلایاتووہ کتے کی طرح دُم ہلاتاہواآگیااور آپ نے اسے کان سے پکڑلیا۔ میں نے کہا:  کیا یہ شہرت نہیں ہے ؟انہوں نے کہا: اے سفیان!آپ  کوکون سی شہرت نظر آرہی ہے ؟ اگرشہرت سے نفرت نہ ہوتی تو میں مَکۂ مکرمہ تک اپنا سامان اس شیرکی پیٹھ پرہی لاد کر لے جاتا۔ 
مظلوم کی فلاح کا دن: 
(9675)…حضرت سیِّدُنامحمدبن عبدالملک دقیقیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیکہتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناحارث بن منصور عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفُوْر نے فرمایا:  ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے پاس آکر ظلم کی شکایت کی تو آپ نے اُسے حدیث سنائی کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں ظلم کی شکایت کی توحضورنبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:  ” قیامت کے دن مظلوم فلاح پانے والے ہوں گے ۔ (1) “ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاپنی مجلس میں دوکلمات کبھی نہیں چھوڑتے تھے :   ” يَا رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ عَفْوَكَ عَفْوَكَ اے میرے رب!سلامتی عطافرما، معافی عطا فرما۔  “ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُناحارث بن منصورعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفُوْر سے پوچھا:  کیا آپ نے یہ کلمات حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے سنے ہیں؟ فرمایا:  جی ہاں۔ 
(9676)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا: دنیاسے دوری لوگوں سے دوری کانام ہے اور  لوگوں سے دوری کا آغاز تمہارا اپنے نفس(کی خواہشات)سے دور ہونا ہے ۔ 
ربّ تعالٰی کی ناراضی کا خوف: 
(9677)…حضرت سیِّدُنامحمدبن عیسٰیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے بعض احباب کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناسفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِییمن کے راستے میں ایک مقام سے گزرے جہاں معن بن زائدہ رہتا تھا،



________________________________
1 -    جامع الصغیر، ص۱۳۰، حدیث: ۲۱۱۸