Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
92 - 361
 الْقَوِی نے اپنے بعد علما کو مشقت میں ڈال دیا، نہ ہم نے آپ جیسا کوئی دیکھا اور نہ ہی  خودآپ نے اپنے جیسا کوئی دیکھا ۔ آپ کے پاس دنیا (مال ودولت) آئی  توآپ نے اس سے  منہ موڑ لیا۔ 
(9669)…حضرت سیِّدُنا محمد بن یوسف فریابی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: جسے دنیاکی کشادگی دی  جاتی ہے اُسے غفلت میں ڈالا جاتا ہے اور جسے دنیاسے محروم کیا جاتا ہے اُس کا امتحان لیاجاتا ہے ۔ 
(9670)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:  اپناپیسہ دیکھو کہ وہ کہاں سے آیاہے ؟ اور (صَفِ اَوّل میں ریا کا خوف ہو تو) نماز آخری صف میں ادا کیا کرو۔ 
انسان کی کمزور ی: 
(9671)…حضرت سیِّدُنامحمد بن یزید بن خُنَیْس مکّیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کابیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فرمان: 
وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا(۲۸) (پ۵، النسآء: ۲۸)	ترجمۂ کنز الایمان: اور آدمی کمزور بنایا گیا۔
	 کے بارے میں پوچھاگیاکہ انسان کی کمزوری کیاہے ؟آپ نے فرمایا: عورت کسی مردکے سامنے سے گزرتی ہے تو وہ خودکو اُسے دیکھنے سے روک نہیں پاتا اور نہ ہی اس سے نفع لے پاتا ہے اس سے بڑھ کر کمزوری کیا ہوگی ؟
(9672)…حضرت سیِّدُناابونُعَیْمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے حضرت سیِّدُناعبداللہ بن ابو ذئب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اِس مضمون کاخط لکھا: 
	 ” سفیان ثوری کی جانب سے محمد بن عبد الرحمٰن کی طرف، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم! میں تمہارے ساتھ اللہ  عَزَّ    وَجَلَّ کی حمد کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور تمہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں کیونکہ اگر تم  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ڈرو گے تو وہ تمہیں لوگوں سے محفوظ رکھے گا اور اگر لوگوں سے ڈروگے تو وہ تمہیں اللہ عَزَّ   وَجَلَّ سے ہرگز نہ بچاسکیں گے لہٰذا تم پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ڈرنا لازم ہے ۔  “ 
(9673)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: باہمی رحمدلی اور شفقت ختم ہوگئی، ہمارے زمانے کے علما حریص ہیں ان میں تقوٰی نہیں ہے ۔