وَبَرَكَاتُه!ابو عبداللہ! آپ کیسے ہیں؟ اور آپ کا کیاحال ہے ؟تو آپ نے فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے اور آپ کو عافیت عطا فرمائے ، ہم طویل گفتگو کرنے والے لوگ نہیں ہیں۔
(9664)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: سب سے افضل ذکر نماز میں قرآنِ مجید کی تلاوت ہے پھر نماز کے علاوہ تلاوتِ قرآنِ کریم ہے پھر روزہ رکھنااور اس کے بعد ذکرِالٰہی افضل ہے ۔
بیوقوف بننے والے کی نجات:
(9665)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں خود کو بے وقوف ظاہر کرنے والے کے سوا کوئی نجات نہیں پائے گا۔
(9666)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے بیان فرمایاکہ جب حضرت سیِّدُنایعقوبعَلَیْہِ السَّلَام کے پاس(حضرت سیِّدُنایوسفعَلَیْہِ السَّلَامکی)خوش خبری لانے والاآیاتوآپ نے اس سے پوچھا: تم نے (حضرت)یوسف (عَلَیْہِ السَّلَام)کوکس دین پرچھوڑاتھا؟آنے والے نے عرض کی: اسلام پر۔ ارشادفرمایا: اب نعمت تمام ہوگئی۔
ہمشیرہ کاہدیہ:
(9667)…حضرت سیِّدُناابوشہاب حَنَّاطرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کعبے کے پچھلے حصے میں لیٹے ہوئے تھے ، میں نے پاس بیٹھ کر سلام کیا مگر آپ نے میری مرضی کا جواب نہیں دیا۔ پھر میں نے کہا: آپ کی ہمشیرہ نے میرے ہاتھ آپ کے لئے کچھ بھیجاہے ۔ یہ سن کرآپ سیدھے ہوکر بیٹھ گئے ۔ میں نے عرض کی: ابوعبداللہ!میں نے آپ کوسلام کیاتوجیسامیں چاہ رہاتھاآپ نے مجھے ویسا جواب نہ دیا مگرجب میں نے کہاکہ ہمشیرہ نے میرے ہاتھ کچھ بھیجاہے توآپ سیدھے ہوکربیٹھ گئے ۔ آپرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہنے فرمایا: کیامجھ سے چُھپائے ہی رکھوگے ؟تین دن ہوگئے میں نے کچھ نہیں کھایالہٰذاجب تم نے کہاکہ ” آپ کی بہن نے آپ کے لئے کچھ بھیجاہے ۔ “ تومیں سمجھ گیا کہ یہ چیزبھیجی ہے ۔ یہ کہہ کرآپ نے اپنے ہاتھ سے ” سُوت “ کااشارہ کیا۔
بعد والوں کے لئے مشقت:
(9668)…حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن یمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ