Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
89 - 361
 اُگائے پھر بھی میں اپنے رزق کے لئے کسی چیز کا اہتمام(ذاتی طور پر) کروں تو میں خود کو کافر سمجھوں۔ 
فضول سوال فضول گوئی ہے : 
(9654)…ابراہیم بن سلیمان زیات عبدی نے مَکۂ مکرمہ میں یہ بیان کیا کہ میں حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے ساتھ بیٹھا تھاتو ایک شخص آپ کا لباس دیکھنے لگا پھر بولا:  ابو عبداللہ!یہ کیسا کپڑاہے ؟ آپ نے فرمایا: سلف صالحین فضول گوئی کو ناپسندجانتے تھے ۔ 
نصیحت کا حیرت انگیز اثر: 
(9655)… ابراہیم بن سلیمان بن زیات کا بیان ہے کہ ہم حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی خدمت میں حاضر تھے ، ایک عورت آئی اور اپنے بیٹے کی شکایت کر کے کہنے لگی:  کیا میں اپنے بیٹے کو آپ کے پاس لے آؤں تاکہ آپ اسے نصیحت کریں؟آپ نے فرمایا:  ہاں ! لے آؤ۔ وہ اسے لے کر حاضرہوئی تو آپ نے اسے حسبِ توفیق نصیحت فرمائی۔ پھر وہ نوجوان چلا گیا، کچھ عرصے بعد وہ واپس آئی اورعرض گزار ہوئی:  ابوعبدُاللہ!اللہ عَزَّ  وَجَلَّ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔ اور اس نے کچھ باتیں بھی بتائیں جو وہ اپنے بیٹے کے لئے چاہتی تھی۔ کچھ عرصے بعد پھر آئی اور کہنے لگی: ابو عبداللہ! میرا بیٹا رات کو سوتا نہیں اور دن میں روزے رکھتا ہے نیز کچھ کھاتا ہے نہ پیتا ہے ۔ آپ نے فرمایا: تجھ پر افسوس ہے ! یہ بتاؤ اس کا سبب کیا ہے ؟ کہنے لگی: وہ علم حدیث حاصل کر تا۔ آپ نے فرمایا: سمجھ لے کہ وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پاس چلا گیا۔ 
(9656)…سیِّدُنا سفیان ثوریرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا:  کسی سے ایک دن میں ایک سے زیادہ حاجتوں کا سوال نہ کرنا۔ 
(9657)…حضرت سیِّدُناعِصام بن یزیدجَبْررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے حج کیا، خلیفہ مہدی بھی حج میں شریک تھااورحضرت سیِّدُناسفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی روپوشی والی زندگی گزاررہے تھے ۔ چنانچہ،  ہم ایک گدھے پر سوار منٰی سے نکلے ، میں گدھے کو ہانک رہا تھا، جب خلیفہ مہدی اپنے گھوڑوں کے ساتھ سامنے نظرآیا تو میں نے اپنے پیچھے سوارحضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے مِزاح کرتے ہوئے کہا: آواز لگاکرکہوں کہ  ” سفیان ثوری یہ رہے ؟ “ آپ نے فرمایا:  ارے او سُست! خاموش ہوجا کہیں کوئی سن نہ لے ۔