Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
85 - 361
(9633)…حضرت سیِّدُنایحییٰ بن یمانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰنکہتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناسفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: میں نے کبھی اپنے نفس کے علاج سے زیادہ دشوار علاج کسی شے کا نہیں کیا۔ 
حق مہر کی ادائیگی کی فکر: 
(9634)…حضرت سیِّدُناعبْدُالرحمٰن بن اسحاق کِنانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیبیان فرماتے ہیں کہ میں (بصرہ کے مضافاتی علاقے )عَبّادان میں تھااورحضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبصرہ میں روپوش تھے ۔ آپ نے مجھے بُلوایا تومیں آپ کی خدمت میں بصرہ حاضرہوگیاجبکہ آپ مرض الموت میں تھے ، آپ نے اپنے سرہانے کے نیچے ہاتھ ڈالااوردراہم کی ایک تھیلی نکال کرمجھے دی ، اُس وقت ایک عورت پردے کے پیچھے گفتگوکررہی تھی۔ آپ نے اس کے متعلق فرمایا:  میں نے اس عورت سے نکاح کیا تھا، اِس کے حق مہر میں سے ابھی 30 درہم کی ادائیگی باقی ہے ، اگر یہ اپنا حق چھوڑدے تو تھیلی میں موجود دراہم سے مجھے کفن دے دینا اور اگر یہ لے لے تو مجھے میرے کپڑوں میں ہی کفن دے دینا۔ پھرجب آپ کا وصال ہواتو میں اُنہیں غسل دینے کے لئے غسل کی جگہ لے گیا، جب میں نے آپ  کاازارکھولاتومجھے کاغذکاایک ٹکڑاملاجس میں حدیث شریف کے مختلف حصے درج تھے ۔ 
سیِّدُنا خضر عَلَیْہِ السَّلَامکی تشریف آوری: 
(9635)…حضرت سیِّدُناقاسم بن حَکَمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کابیان ہے کہ جب حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا وصال ہوا تو ایک بزرگ جن کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے تدفین کے وقت آئے اور آپ کی قبر پر کھڑے ہو کر فرمانے لگے :   ” اے سفیان! تم ان سے بے خوف ہو گئے جن کا تمہیں خوف تھا اور اپنے معبود برحق کی جانب پہنچ گئے اور خدا کی قسم! ہمیں یہ پسند نہیں کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سوا کوئی اور ہمارا حساب لے ۔  “ پھر وہ بزرگ دکھائی نہیں دئیے تو لوگ انہیں حضرت سیِّدُنا خضر عَلَیْہِ السَّلَام سمجھنے لگے ۔ 
تین دن مٹی پر گزراوقات : 
(9636)…حضرت سیِّدُنا زید بن حُباب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا مَکۂ مکرمہ میں خرچ ختم ہو گیا، آپ کی قوم کے ایک شخص نے آپ  کے پاس آکر کہا:  میرے