Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
84 - 361
ساتھ اور پیوتو نیت کے ساتھ  اوراکیلے کھاؤ نہ ہی اکیلے سوؤ کہ شیطان اکیلے شخص کے ساتھ ہوتا ہے اور دو سے زیادہ دور رہتا ہے اور اندھیرے میں نہ کھاؤ کیونکہ شیطان اندھیرے میں کھاتا ہے ۔ لالچ سے بچو کیونکہ یہ تمہارے دین میں بگاڑ پیدا کرتا ہے اورکسی کو کچھ دینے کا وعدہ  ہرگز نہ کرو کیونکہ پورا نہ کرنے کی صورت میں تم  محبت کو نفرت میں بدل دو گے ۔ کینہ پروری سے بچو کیونکہ اس بندے کی توبہ قبول نہیں ہوتی جس کے دل میں اپنے مسلمان بھائی کا کینہ ہو۔ بغض سے بچو کیونکہ یہ قطع تعلقی کو جنم دیتا ہے ۔ 
	 تم پرہر مسلمان کوسلام کرنا لازم ہے  یہ تمہارے دل سے بغض و کینہ نکال دے گا، مصافحہ لازم کر لو تم لوگوں میں محبوب ہو جاؤ گے ۔ ہمیشہ باوضو رہو نگہبان فرشتے تم سے محبت رکھیں گے اور اِسی حال میں مرگئے تو شہیدمروگے ۔ یتیم کواپنے قریب کرواوراس کے سرپرہاتھ پھیروتمہاری عمرمیں برکت ہو گی اورتم جنت میں  اپنے نبی حضرت سیِّدُنامحمدمصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رفیق ہوگے ۔ چھوٹوں پررحم کرواور بڑوں کی عزت کرو صالحین میں شامل ہو جاؤ گے ۔ متقی وصالح لوگوں کو اپنا کھانا کھلاؤ اگرچہ وہ مالدار ہوں اللہ  عَزَّ    وَجَلَّ تمہیں اپنا محبوب بنالے گااورلوگوں کے دلوں میں تمہاری محبت ڈال دے گا۔ اگرنیالباس پہنوتوپُراناکسی لباس کے محتاج کو پیش کر دو اِس سے تمہارانام بخیلوں کی فہرست سے مٹادیاجائے گا، تمہاری نیکیوں میں اضافہ کیاجائے گااوراورگناہوں میں کمی کردی جائے گی۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّہی کی خاطرمحبت کرواوراُسی کے لئے نفرت رکھوورنہ تمہاری پہچان منافقوں والی ہوگی۔ 
آج نیت حاضر ہے : 
(9631)…(ب)حضرت سیِّدُنامکی بن ابراہیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا  سفیان بن سعید ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے پاس گیاتو آپ  کے سامنے روٹی اور مٹھی بَھرکشمش رکھی تھی، مجھ سے فرمایا:  مکی! کھانے کے لئے قریب آ جاؤ۔ میں نے عرض کی:  ابو عبداللہ! میں آپ کے کھانے کے دوران پہلے بھی کئی بار حاضر ہوا ہوں مگر پہلے آپ نے کبھی مجھے کھانے کا نہیں کہا۔ ارشاد فرمایا: آج میری نیت حاضر ہے ۔ 
(9632)…حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن یمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان بیان فرماتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے گھر گیا تو آپ بارگاہِ الٰہی میں یہ عرض کررہے تھے : اے ذاتِ لَمْ یَزَل!تیری پردہ پوشی اچھی ہے ۔ اے ہمیشہ رہنے والی ذات!میں تجھ سے بہترین پردہ پوشی کا سوال کرتا ہوں۔