Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
80 - 361
اللہِ الْغَفُوْرکی عیادت کے  لئے حاضرہوا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اس گھرمیں رات بسرکی تھی، یہاں میرے بیٹے کاایک بلبل بھی تھا۔ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اسے دیکھ کرفرمایا:  اس پرندے کو قید کیوں کررکھا ہے ، اسے آزاد کردینا مناسب ہے ۔  میں نے کہا: یہ میرے بیٹے کا ہے وہ اِسے آپ کو ہبہ کر دے گا۔ آپ نے فرمایا: نہیں بلکہ میں اسے ایک دینار دوں گا۔ چنانچہ آپ نے اس بلبل کوآزادکردیا۔ پھراس بلبل کا یہ معمول ہوگیاکہ دانا چُگ کرشام کوگھرآجایاکرتااورگھرکے ایک کونے میں رہتا۔ جب حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کاانتقال ہواتووہ آپ کے جنازے کے ساتھ گیااورآپ کی قبرمبارک  پر تڑپنے لگا، پھر کچھ راتوں تک اس نے آپ کی قبرپرآناجانارکھا، وہ کبھی قبرکے پاس رات گزارتااورکبھی گھرلوٹ آتا۔ پھرایک دن لوگوں نے اُس بلبل کوآپ کی قبرشریف کے پاس مردہ پایاتواُسے بھی آپ کے ساتھ قبرمیں یاآپ کے پہلومیں دفن کردیا گیا۔ 
	حضرت سیِّدُناابو منصور سُلیمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰنکے بقول اِس بات کے راوی حضرت عارم کا نام بشر بن منصور سَلِیْمِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ہے ۔ حضرت سیِّدُنا عبْدُالرحمٰن بن مہدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے گھر سے نکل کر حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے بصرہ میں انہی کے گھر میں پناہ لے رکھی تھی اوریہیں وفات پائی۔ اللہ تعالیٰ کی ان پر رحمت ہو(اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ امین)۔ 
(9618)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: آدمی کو جس درہم کے خرچ پربہت زیادہ اجر ملتا ہے وہ درہم وہ ہے جو وہ حمام والے کو حمام خالی کرانے کے لئے دیتا ہے ۔ 
تحفے کے بدلے تحفہ: 
(9619)…حضرت سیِّدُنا قَبِیْصَہ بن عُقْبَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں:  میں نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکوکوئی شے تحفہ دی توآپ نے اُسے قبول کیااوراپنے پاس رکھا ہواچاولوں کاایک بڑاپیالہ مجھے عطا فرمادیا۔ 
(9620)…حضرت سیِّدُنا ابوصفوان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ عبْدُالمجید کے بیٹے معاویہ اور عبْدُ الْوَہاب  ہمارے پاس آئے ، یہ دونوں حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آتے اور اُنہیں تحائف دیا کرتے تھے ۔ پھرایک دن میں نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کوگندم فروشوں کے درمیان دیکھا ۔ آپ نے مجھ سے فرمایا:  تمہارے اِن چچازاد بھائیوں نے میرے ساتھ حُسنِ سلوک کیا