میں مرنے والاہوں۔ اوراُس نے یہ بھی کہا: میں نمازپڑھتے ہوئے اس قدرروتاہوں کہ میرے آنسوؤں سے گھاس اُگ جاتی ہے ۔ پہلے راہب نے کہا: تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سامنے اپنی خطا کا اعتراف ہو تو پھر تمہارا ہنسنا تمہارے رونے اور اپنے عمل پر اِترانے سے بہتر ہے کیونکہ اِترانے والے کی نماز اس کے سر سے اوپر نہیں جاتی۔ دوسرے نے کہا: مجھے نصیحت کیجئے ۔ پہلا راہب کہنے لگا: دنیا سے بے رغبت ہو جاؤ اور دنیاداروں سے مت جھگڑواور دنیامیں شہد کی مکھی کی طرح ہو جاؤکہ اگروہ کسی لکڑی پر بیٹھے تو اُسے توڑتی نہیں، کھائے تو ستھرا کھائے اورنکالے تو پاکیزہ نکالے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ایسے مخلص ہو جاؤ جیسے کتا گھر والوں کے لئے ہوتا ہے کہ وہ اسے ماریں یا بھگائیں مگر وہ ان کی حفاظت میں ہی لگا رہتا ہے ۔
(9601)…حضرت سیِّدُناعبْدُالرحمٰن بن عبدالملکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت ابوخالداحمر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کویہ واقعہ بتایاکہ میں(بصرہ کے مضافات میں واقع قصبہ)عَبّادان میں تھا کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے مجھے بُلوایا، میں آپ کی خدمت میں بصرہ حاضر ہوا، اُس وقت آپ کودست کامرض تھا، مجھ سے فرمایا: کیا اس مرض کاتمہارے پاس کوئی حل ہے ؟میں نے عرض کی: آپ تیمم کر لیجئے ۔ یہ سن کر آپ نے اپنا کپڑا میرے منہ پرپھینکا۔ جب میں باہر نکلا تو سوچاکہ ” حضرت سیدنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمجھے سے کیوں مسئلہ پوچھنے لگے ؟ “ یہ سوچ کر میں کوئی دوا بتانے کے لئے واپس پلٹامگر اُس وقت تک آپ وصال فرماچکے تھے اور منہ پر مکئی کے ستو لگے ہوئے تھے ۔ یہ سن کر حضرت سیِّدُناابو خالدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے تین مرتبہ کہا: واہ! کتنا پیارا وہ منہ تھا۔
جہاں جتنارہناہے اس کے لئے اتناعمل کرو:
(9602)…حضرت سیِّدُنا عبْدُالرحمٰن بنعبدُاللہ بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے عرض کی: مجھے نصیحت کیجئے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: دنیا کے لئے اتنا عمل کرو جتنا اس میں رہنا ہے اور آخرت کے لئے اتنا کرو جتنا اس میں رہنا ہے ۔
ثواب بڑھانے والا بے مثل کلام:
(9603)…حضرت سیِّدُنا یوسف بن اَسباط رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: ثواب میں اضافہ کرنے والے کلاموں میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ جیسا کوئی کلام نہیں اورشیطان کی کمر