کب مسئلہ نہ پوچھا جائے ؟
(9595)…حضرت سیِّدُنا یوسف بن اسباط رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایاکہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کچھ خرید رہے تھے کہ کسی نے ان سے مسئلہ پوچھا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ابھی مجھے چھوڑ دوکیونکہ اس وقت میرا دل درہم کے ساتھ مشغول ہے ۔
شہدلگی روٹی:
(9596)…حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن یمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: دنیا کی مثال شہد لگی روٹی کی طرح ہے ، اگر اس پر کوئی مکھی بیٹھتی ہے تووہ روٹی اُسے پروں سے محروم کردیتی ہے اور اگر وہ خشک روٹی پر بیٹھے تومحفوظ رہتی ہے ۔
(9597)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایاکہ سیِّدُناقیسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جوجھگڑرہے تھے توفرمانے لگے : یہ کیوں لڑتے ہیں؟ان کے نزدیک دنیابڑی شے ہوگئی۔
(9598)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا: وہ شخص عالِم وسمجھ دارنہیں جوآفت وآزمائش کو نعمت اور آسودگی کو مصیبت نہ سمجھے ۔
بڑی نعمت:
(9599)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وہ نعمت جو مجھ سے دنیا کو دور کر دے اس نعمت سے بڑی ہے جو مجھے عطا کرے ۔
راہب کی راہب کو نصیحت:
(9600)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ ایک راہب دوسرے راہب کے پاس آیا اور اس سے کہا: عبادت کے لئے تمہارا جو ش کیسا ہے ؟دوسرے نے جواب دیا: میں نہیں سمجھتا کہ جنت وجہنم کا ذکر سننے والے پر دن اور رات میں کوئی ایسی گھڑی گزرتی ہو جس میں وہ نماز نہ پڑھتا ہو۔ پھر اس نے پوچھا: تم موت کو کیسے یاد کرتے ہو؟راہب نے جواب دیا: میں ایک قدم اٹھا کر دوسرا قدم رکھنے سے پہلے سمجھتاہوں کہ