Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
75 - 361
شکریہ ادا کرنے کا موقع: 
(9589)…حضرت سیِّدُنا یوسف بن اَسباط رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں:  میں کوفہ میں بنو احمر کے لئے دودھ دوہا کرتا تھا ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی میرے پاس آکر بیٹھ گئے ، پہلے کچھ بات کی پھر فرمایا:  یوسف! شکریہ اُسی کاادا کروجو شکر کے مقام وموقع سے واقف ہے ۔ میں نے عرض کی:  ابو عبداللہ! شکر کا مقام و موقع کیا ہے ؟ تو آپ نے مجھے بتایا: اگر میں تمہارے ساتھ کوئی بھلائی کروں پھر اسے تم سے بھی زیادہ چھپاؤں اور تم سے بڑھ کرحیا کروں تواِ س موقع پر شکریہ ادا کرو، ورنہ نہیں۔ 
(9590)…ابو ہُدْبہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کو دیکھا کہ آپ نے اپنے کچھ بال کٹوائے تو حجام کو ایک روٹی دی۔ 
(9591)…حضرت سیِّدُنا شعیب بن حرب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی: میرے بیٹے نے مجھے بے یارومددگار چھوڑدیااورکام کاج کرنابھی چھوڑ دیا ہے ۔ آپ نے پوچھا: اب وہ کس کام میں لگ گیا ہے ؟ اس نے عرض کی:  حدیث میں۔ آپ نے فرمایا:  اُس کی جدائی پر ثواب کی امید رکھتے ہوئے صبر کر۔ 
(9592)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:  اجر صبر کے برابر  ملتا ہے ۔ 
اچھی اور بُری عاجزی: 
(9593)…خالد بن یزیدعمری نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا یہ قول بیان کیا:  ”  غریبوں کی مجالس میں امیروں کا عاجزی کرنا کتنا اچھا ہے اورامیروں کی مجالس میں غریبوں کا عاجزی کرنا کتنا بُرا ہے ۔  “ پھر کہا: اے قاریوں کے گروہ ! دُنیا کو کھا لو کیونکہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کاانتقال ہوچکاہے ۔ 
(9594)…حضرت سیِّدُنا عطا بن مسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ہم سے دورانِ گفتگو فرمانے لگے : دن اپنا کام کررہا ہے ۔ کسی نے ان سے پوچھا: کیا اس گفتگو میں اجر ہے ؟ آپ نے فرمایا: اس میں لذت ہے ۔