Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
74 - 361
ساری رات فکرِ آخرت: 
(9583)…حضرت سیِّدُنا یوسف بن اَسباط رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ  میں حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے ساتھ مسجد میں تھا، آپ نے مجھ سے فرمایا: یوسف! مجھے وضو کے لئے لوٹا لاکردو۔ میں نے حاضرکردیاتو آپ نے اُسے دائیں ہاتھ میں پکڑا اور بایاں ہاتھ اپنے گال پر رکھ لیا ۔ پھر مجھے نیند آگئی اور میں فجرکا وقت شروع ہونے کے بعد جاگاتو آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی طرف دیکھا، برتن آپ کے ہاتھ میں اُسی طرح موجود تھا ، میں نے عرض کی: ابو عبداللہ! فجر کا وقت ہوچکا ہے ۔ آپ نے فرمایا: جب تم نے مجھے لوٹا دیا اس وقت سے اب تک میں آخرت کے بارے میں غوروفکر کررہا تھا ۔ 
(9584)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: آنکھوں کا دیکھنا دنیاسے اور دل کا دیکھنا آخرت سے ہے ۔ بے شک بندہ آنکھوں سے دیکھتا ہے تو اس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کرپا تا اور اگروہ دل  سے دیکھتا ہے تو فائدہ حاصل کرتا ہے ۔ 
(9585)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:  میں کسی بھائی سے ملاقات کے بعد ایک مہینے تک اُس ملاقات کو بھول جاتا ہوں ۔ 
پہلے نیت پھراس کی پیروی: 
(9586)…حضرت سیِّدُنااِبْنِ ابُوحَواریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا احمد بن شُبَّویہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے بیان کیاکہ حضرت سیِّدُنا ابو صفوانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: نیت کرنے سے بدن کبھی کمزور نہیں ہوتا ۔ تو حضرت سیِّدُنا احمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہاکہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: نیت کی انتہاتک پہنچنے سے بدن کمزور نہیں ہوتا لہٰذا پہلے نیت کرو پھر اس کی اتباع کرو۔ 
(9587)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:  سب سے بُری خواہش یہ ہے کہ تم آخرت والے عمل سے دنیا طلب کرو ۔ 
(9588)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ جب مُردہ چار پائی پر ہوتا ہے تو اس سے کہا جاتا ہے : لوگوں سے اپنی تعریف سنو۔