موت کی سختی:
(9565)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: مرنے والے کے اہل خانہ کو چاہئے کہ وہ مرنے والے کو کلمَۂ شہادت کی تلقین کریں کیونکہ حضرت ملَکُ الموت عَلَیْہِ السَّلَام جب اس کی کمرکو چھوتے ہیں تو اس کی بولنے اور پہچاننے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے ، پھر وہ جان کنی کی تکلیف کا جام پیتا ہے ، اگر اس وقت اُس کے ہاتھ میں تلوار ہو توقدرت پانے پر باپ کو بھی قتل کردے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر کا خوف:
(9566)…حضرت سیِّدُنا عطاء خَفَّاف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں: میں حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے ملاتو انہیں روتا ہوا پایا ، میں نے عرض کی: آپ کیوں روتے ہیں ؟ارشاد فرمایا: اس خوف سے کہ کہیں میں لوحِ محفوظ میں شقی وبدبخت نہ لکھ دیا گیا ہوں۔
(9567)…حضرت سیِّدُناعبْدُالعزیزبن ابوحازمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِدبیان کرتے ہیں: حضرت سیِّدُناسفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیقاضی وقت کے پاس سے گزرے جو لوگوں کو ہنسانے والی گفتگو کر رہے تھے : آپ نے ان سے فرمایا: ” بزرگوار! کیا آپ نہیں جانتے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ایک دن مقررکررکھاہے جس میں باطل میں پڑے لوگوں کو جمع کیا جائے گا ۔ “ اس کے بعد مرتے دم تک قاضی کے چہرے پر ہنسی نہ دیکھی گئی۔
(9568)…حضرت سیِّدُنایزیدبن ابوحکیمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْمکہتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُناسفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکویوں دعاکرتے سنا: اے وہ ذات جس سے مانگاجائے توخوش ہواورنہ مانگاجائے توناراض ہو اور تیرے سواایساکوئی نہیں۔
(9569)…سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے فرمایا: مجھے یہ بات پہنچی کہ سمندرایک مشکیزے سے نکلتا ہے ۔
قاری بننے سے پہلے جواں مردی اپناؤ:
(9570)…حضرت سفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا: جواں مرد(1)ہونے سے پہلے قاری بننا اچھا نہیں۔
________________________________
1 - سیِّدُنا ابُوالقاسِم عبْدُالکریم قشیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں: ” اصل جواں مردی یہ ہے کہ بندہ ہمیشہ دوسروں کے کاموں میں کوشش کرتارہے ۔ “ جواں مردی کی تفصیل جاننے کے لئے ” رسالہ قشیریہ‘‘(مترجم)صفحہ406تا413کامطالعہ فرمالیجئے ۔