ٹوپی اتار کر رکھ لی، تھوڑی دیر ٹھہرا رہا پھر اُٹھ کر چلا گیا۔
(9560)…حضرت سیِّدُنایحییٰ بن یمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں: حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: مجھے سخت ناگوار گزرتا ہے جب میں اِن حکمرانوں کونماز پڑھتے دیکھتا ہوں (کہ ایک طرف ان کے کرتوت اور دوسری طرف نماز)۔ راوی بیان کرتے ہیں: حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے ایک شخص کے سر پر سیاہ ٹوپی دیکھی ، اُس نے آپ سے حج کے بارے میں بات کی توآپ نے ارشاد فرمایا: تیرا ا س ٹوپی کو اُتار دینا ایک حج کے برابر ہے ۔
شاہی حکم نامے سے بیزاری:
(9561)…حضرت سیِّدُنا محمد بن سابق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِق بیان کرتے ہیں کہ جب شریک بن عبداللہ کو قاضی بنایا گیا تو میں حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے پاس بیٹھا تھا آپ نے فرمایا: کتنے ہی مرد بگڑ گئے لیکن جب حضرت سیِّدُنا منصور بن معتمر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو امیر داؤد بن علی عباسی نے پکڑا تو اُنہیں اتنی دیرکھڑا رکھاکہ آپ کے پاؤں سُوج گئے پھربعد میں اس نے آپ کے لئے شاہی حکم نامہ بھیجاجسے آپ نے گھر کے روشن دان میں ڈال دیااور مرتے دم تک اُسے باہرنہیں نکالا۔
ساری رات مذاکرہ:
(9562)…حضرت سیِّدُنایحییٰ بن یمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے بیان کیاکہ ایک بارحضرت سیِّدُنا سفیان ثوری اور حضرت سیِّدُناابراہیم بن ادہمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَاپوری رات کھڑے کھڑے مذاکرہ(باہمی گفتگو)کرتے رہے ۔ کسی نے اُن سے پوچھا: ابونصر!یہ حضرات کس بارے میں گفتگوکرتے رہے ؟فرمایا: مسلمانوں کے معاملات کے بارے میں۔
(9563)…حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن یمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کو کئی مرتبہ سر پر کپڑا لپیٹے لونڈی غلام کے جنازے میں تیزی سے جاتے دیکھا ہے ۔
(9564)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: اگر کسی عبادت گزار کے پڑوسی اس سے راضی ہوں تو جان لو کہ وہ چاپلوس ہے ۔