مبارک بن سعید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد نے مجھ سے فرمایا: حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے پاس جاؤ اور اُنہیں بتاؤ کہ میرے اخراجات ختم ہوگئے اور میرے کپڑے پَھٹ چکے ہیں، ان سے کہنا کہ والِیِ مَوْصِل کو میرے بارے میں خط لکھیں شاید وہ مجھے کچھ دے کر حُسنِ سلوک کرے اور اُسے پہن کر میری حالت اچھی ہو جائے ۔ چنانچہ میں کوفہ گیا اور حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکو ان کے بھائی کا پیغام دیا جسے سن کر آپ گھر میں گئے اور ایک صراحی لے کر باہر آئے جس میں روٹی کے سوکھے ٹکڑے تھے آپ نے انہیں زمین پر پھیلا کر فرمایا: اگرمُبارک اتنی مقدارپرراضی رہتے توموصل میں نہ ہوتے ، ہمارے پاس اُن کے لئے کوئی خط نہیں۔
(9557)…حضرت سیِّدُنا مبارک بن سعید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے انہیں خط میں لکھا: اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھی طرح رہو اور ایسے ہو جاؤ کہ تمہاری حالت سے موت کی یاد آجائے ۔ وَالسَّلام
(9558)…حضرت سیِّدُنا محمد بن منصور عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفُوْر یا کسی اور سے منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اپنے ایک بھائی کو ملامت کی جو حکمرانوں سے کوئی عہدہ لیناچاہتے تھے ۔ ڈانٹ ڈپٹ پر انہوں نے کہا: ابو عبداللہ! مجھ پر اہل و عیال کا بوجھ ہے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: تمہارا اپنے گلے میں کشکول ڈال کر دروازے دروازے بھیک مانگنا ان حکمرانوں سے کوئی عہدہ قبول کرنے سے بہتر ہے ۔
بُرے لوگوں کے طریقوں سے بچو:
(9559)…حضرت سیِّدُنا وَہْب بن اسماعیل اَسَدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں: ہم حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے پاس تھے کہ سیاہ ٹوپی پہنے ایک شخص نے آکرکسی مسئلہ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے اسے دیکھ کر منہ پھیر لیا، اس نے پھر سوال کیا، آپ نے پھر اسے دیکھا اور منہ پھیر لیا ۔ اب اس نے کہا: اے ابو عبداللہ! لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں تو آپ انہیں جواب دیتے ہیں جبکہ میں سوال کرتا ہوں تو آپ مجھے دیکھ کرمنہ پھیر لیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: تمہارااس سوال سے کیا ارادہ ہے ؟ اس نے کہا: سنت معلوم کرنے کا۔ ارشاد فرمایا: یہ جو تمہارے سر پر ٹوپی ہے یہ کون سی سنت ؟ اس طریقے کوتو(عباسی سپہ سالار)ابومسلم خُراسانی نامی ایک بُرے شخص نے ایجاد کیا ہے ، تم اس کے طریقے پرہرگز مت چلو۔ راوی فرماتے ہیں: اس شخص نے