کثرت لازم ہے اور جب تنہائی میں ہو تو تم پر حزن وملال اور رونے کی کثرت لازم ہے ۔ ہمیں یہ بات پہنچی ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّبہتر جانتا ہے کہ بروزِ قیامت بندۂ مومن اپنے اعمال نامے میں سب سے بڑی نیکی حزن وملال کوپائے گا۔ نفاق والی انکساری اور ایسی عاجزی سے بچوجو چہرے پر ہو مگر دل میں نہ ہو۔
مصارِفِ حج میں زیادتی پر خلیفہ کو سرزنش:
(9555)…حضرت سیِّدُناعبداللہبننُمَیْررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں: حضرت سیِّدُناسفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمجھے صفاومروہ کے درمیان ملے ، میراہاتھ پکڑکرمجھے سلام کیااوراپنی قیام گاہ کی طرف روانہ ہوگئے ، کیا دیکھا کہ والِیِ مکہ عبْدُالصَّمَدبن علی آپ کے گھر کے دروازے پر بیٹھے آپ کا انتظار کر رہے تھے ، جب انہوں نے آپ کو دیکھا تو کہا: میرے علم میں حکمرانوں کو چکما دینے والاتم سے بڑھ کر اور کوئی نہیں۔ اس پر حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: میں ایسے کام میں مشغول تھا جو مجھ پر تمہارے پاس آنے سے زیادہ لازم تھا۔ بے شک آپ ہمہ وقت نماز کی تیاری میں رہتے تھے ، یہ اسی طرف اشارہ تھا۔ عبدالصمد کہنے لگے : کچھ لوگوں نے میرے پاس آکرخبر دی ہے کہ انہوں نے ذُوالْحِجَّۃِ الْحَرَام کا چاند دیکھاہے ۔ تو آپ نے فرمایا: تو پھر تم کسی کو حکم دو کہ پہاڑ پر چڑھ کر لوگوں میں اس کا اعلان کردے ۔ اُس وقت آپ کا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھاپھر آپ نے والِیِ مکہ عبد الصمد کو دروازے پر بیٹھا چھوڑ دیا اور میرے پاس ایک توشہ دان لے آئے جس میں روٹی اور پنیر کے بچے کچے ٹکڑے تھے ، ہم نے مل کر کھانا شروع کردیا۔ راوی کہتے ہیں : پھر میں آپ کا ہاتھ پکڑ کر خلیفہ مہدی کے پاس لے گیاجو منٰی میں
موجود تھا، جب آپ نے خلیفہ کو دیکھا تو اونچی آواز کے ساتھ خلیفہ پر برس پڑے : یہ خیمے کیسے ہیں؟یہ پنڈالیں کس لئے ؟ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عُمَر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حج کیا تو پوچھا: ” ہم نے اپنے اس حج میں کتنا مال خرچ کیا؟ “ عرض کی گئی: ” اتنے اتنے دینار۔ “ آپ نے تھوڑی سی رقم (10 سے کچھ زائددینار)کا ذکر کیا۔
امام ابن سعد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی روایت میں اتنا زائد ہے : یہ سن کر حضرت سیِّدُنا عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ہم سے اسراف ہوگیا ۔
بھائی کی سفارش نہیں کی:
(9556)…حضرت سیِّدُنا نَضْربن ابو زُرْعَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں: شہرمُوصِل میں حضرت سیِّدُنا