Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
67 - 361
 کھائے ، فاسق کی صحبت اختیارکرو نہ اس کے ساتھ بیٹھو اور نہ ہی اس کے ساتھ بیٹھنے والے کے ساتھ بیٹھو، اس کے ساتھ کھاؤ نہ ہی اس کے ساتھ کھانے والوں کے ساتھ کھاؤ اور نہ ہی اسے پسند کرنے والے کو پسند کرو، اس  سے اپنا راز بیان کرو نہ اس کے لئے مسکراؤ اور نہ ہی اسے اپنی مجلس میں جگہ دو۔ پس  اگر تم نے ان میں سے کوئی بھی کام کیا تو تم نے اسلام کی رسی کاٹ دی۔ 
	بادشاہ ، اس کے درباریوں اور ان کی خواہشات پرچلنے والو ں کے در پر جانے سے بچو کیونکہ ان کا فتنہ دَجّال کے فتنے کی طرح ہے ، اگر ان میں سے کوئی تمہارے پاس آئے تو اس کوتُرش روی سے دیکھواوران کی طرف سے کسی تکلیف کی پرواہ نہ کرو، ورنہ وہ خود کو حق پر جانیں گے اوریوں تم ان کے مددگار قرار پاؤ گے ، کیونکہ یہ لوگ جس سے ملتے ہیں اسے میلا وگندہ کر دیتے ہیں۔ تم مالٹے کی مثل ہو جاؤ جس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ عمدہ ہوتا ہے ۔ دنیاداروں سے ان کی دنیا کے معاملے میں جھگڑا نہ کرناتم لوگوں کے نزدیک پسندیدہ ہوجاؤ گے ۔ گناہ سے بچو ورنہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ناراضی کے مستحق ٹھہرو گے ۔ 
	یاد رکھو!حضرت سیِّدُناآدم عَلَیْہِ السَّلَام اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی بارگاہ میں مُعَزز ترین انسان تھے ، اُس نے اُن کے جسم کے لئے جمع شدہ مٹی کو اپنے دسْتِ قدرت سے گوندھا، اُس میں  اپنی طرف کی خاص مُعَزز روح پھونکی، فرشتوں سے سجدہ کروا کے عزت بخشی اور انہیں اپنی جنت میں ٹھہرایامگر پھرایک لغزش کے سبب جنت سے الگ فرما دیا۔ اے میرے بھائی!جان لو کہ اللہ تعالیٰ کسی کو گناہوں کے ہوتے ہوئے جنت میں داخل نہیں کرے گا اوریہ بھی دیکھوکہ حضرت سیِّدُنا داؤد عَلَیْہِ السَّلَامزمین میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے خلیفہ تھے ، صرف ایک لغزش کی وجہ سے اُن پر کیا کچھ آزمائش آئی  اوراگر ہم سے اس جیسی لغزش  ہوجاتی تو کہتے :  یہ کوئی خطا نہیں ہے ۔ (غور کرو !جب ان نُفُوسِ قُدسِیہ کی لغزش کا یہ معاملہ ہواتو پھر گناہوں پر کسی قَدَر گرفت ہوسکتی ہے )تواے میرے بھائی! اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ڈرو، گناہوں اور گناہ کرنے والوں سے بچ کر رہو کیونکہ گناہ گار لوگ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی جانب سے سزا کے حقدار ہوتے ہیں۔ 
	 اپنی جان و مال کے ساتھ اپنے بھائیوں کے لئے قربانی دواورانہیں ظاہر و باطن میں دھوکانہ دینا، جاہلوں اوران کے ساتھ بیٹھنے اور فاسقوں اور ان کی صحبت میں رہنے سے مُتَنَفِّررہوکیونکہ ان کے ساتھ رہنے والا نجات نہیں پائے گا مگروہ جسے اللہتعالیٰ بچالے ۔ جب تم لوگوں کے ساتھ ہو تو تم پرمسکراہٹ اور خندہ پیشانی کی