اپناجُبَّہ میرے پاس رکھوا دیاجسے آپ نماز کے لئے پہنتے تھے پھر آپ سے میری ملاقات صرف میدانِ عرفات میں ہوئی، وہاں مجھ سے فرمایا: عبداللہ!جُبَّہ کہاں ہے ؟ میں نے عرض کی: وہ میرے پاس موجودہے ۔ فرمایا: مجھے دے دو۔ میں نے وہ جُبّہ لاکر انہیں دے دیا۔ پھر آپ حج ادا کر کے بصرہ چلے گئے اور حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن سعید اورحضرت سیِّدُنا عبْدُ الرحمٰن بن مَہْدی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کے ایک سبزی فروش پڑوسی کے پاس ٹھہرے ۔ مجھے اس سبزی والے نے بتایا: جس رات آپ کا وصال ہوا اس رات آپ بار بار اٹھ کر نماز کے لئے وضو کرتے تھے اور یہ عمل آپ نے 50 مرتبہ کیا پھر رات کے آخری پہر میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا وصال ہو گیا۔
عہدہ قضا سے بیزاری:
(9553)…حضرت سیِّدُنا زید بن ابو خِدَاشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے : حضرت سیِّدُنا سفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے حضرت سیِّدُنا شریک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے ان کے قاضِیِ کوفہ بن جانے کے بعد ملاقات کی اور کہا: ابوعبداللہ! اسلام، فقہ اورخیروبھلائی پانے کے بعدعہدقضاکوجاپہنچے اورقاضی بن بیٹھے ، آخرکیوں؟انہوں نے کہا: ابو عبداللہ! لوگوں کو ایک قاضی چاہیے تھا ۔ اس پر حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے کہا: لوگوں کو (قاضی کی صورت میں )ایک سپاہی چاہیے تھا۔
لوگوں سے تعلقات کے بارے میں نصیحت:
(9554)…حضرت سیِّدُنا ابو حَمَّاد مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے حضرت سیِّدُنا علی بن حسن سَلیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیکو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: عمل اور دل کو بگاڑنے والی چیزوں سے بچو، دل میں بگاڑ پیداکرنے والی چیز تمہارا دنیاداروں، حریصوں اوراُن شیاطین کے بھائیوں کے پاس بیٹھنا ہے جواپنا مال اللہتعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری کے علاوہ میں خرچ کرتے ہیں۔ دین کو خراب کرنے والی باتوں سے بچو، تمہارے دین کو خراب کرنے والی بات بہت زیادہ بولنے اورمنافقانہ گفتگو کرنے والوں کے ساتھ بیٹھنا ہے ۔ اسبابِ زندگی تباہ وبرباد کرنے والی چیزوں سے بچو، حرص وخواہشات کے پیروکارتمہارے اسبابِ زندگی کو تباہ وبرباد کرتے ہیں۔
ظالموں کے ساتھ بیٹھنے سے بچو، صرف بندۂ مومن کی صحبت اختیارکرو، تمہارا کھانا صرف پرہیزگار شخص