Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
65 - 361
سے بات نہیں کی یہاں تک کہ وہ اُٹھ کر چلے گئے ، اگلے دن انہوں نے آپ کوسلام کے ساتھ یہ پیغام بھیجا:  ” آپ کیسے انسان ہیں ؟ اگر مجھے پتا ہوتا کہ مکہ میں آپ کو مَیں سب سے زیادہ ناپسند ہوں توکیا  میں آپ کے پاس آتا؟ “ 
(9546)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن یمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں:  حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے سامنے خلیفہ کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا:  اگریہ لوگ سونا کھائیں تو ہم کنکریاں کھالیں گے ۔ 
ظالم کی مذمت: 
(9547)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:  ظالم کی طرف دیکھنا بھی خطا ہے ۔  
(9548)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:  جس نے ظالم کے لئے لمبی عُمْرکی دعا کی اس نے پسند کیا کہ ” اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نافرمانی کی جائے ۔  “ 
(9549)… حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: میں کسی کی دنیا سے محبت کو اس کے دنیا داروں کو سلام کرنے سے جان لیتا ہوں۔ 
(9550)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:  دنیاداروں کی تعظیم کرنے والے عالِم میں کوئی بھلائی نہیں۔ 
کس کی صحبت میں بیٹھیں ؟
(9551)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا:  گناہ گاروں کو ناپسند کر کے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا قُرب حاصل کرو اور ان سے دوری اختیار کر کے اس کی رِضا طلب کرو۔ لوگوں نے عرض کی: پھر ہم کس کی صحبت میں بیٹھیں ؟ارشاد فرمایا: جسے دیکھ کر تمہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ یاد آجائے ، جس کا عمل تمہیں آخرت کی رغبت دلائے اور جس کی گفتگو تمہارے عمل میں اضافے کا باعث ہو ۔ 
(9552)…مَعْن بن زائدہ کے غلام عبداللہ بن فَرَج کا بیان ہے :  حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کو طلب کیا گیا تو وہ یمن آگئے ، میں نے معن بن زائدہ کو آپ کی آمد سے آگاہ کیا تو اس نے آپ کوامان دی اور ایک ہزار دینار دینے کا حکم دیامگر آپ نے دینا رقبول نہ فرمائے ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حج کے موسم میں