Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
63 - 361
(9538)…سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: نامردوں کے حاکم بننے میں اس اُمَّت کی ہلاکت ہے ۔ 
لومڑی کی 72چالیں: 
(9539)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:  لومڑی کہتی ہے کہ  ” میں نے کتے سے بچنے کے لئے 72چالیں سیکھی ہیں مگراس سے بہترچال کوئی نہیں دیکھی کہ میں کتے کونہ دیکھوں اوروہ مجھے نہ دیکھے ۔  “ 
(9540)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:  میرے خیال میں حاکِمِ وقت کے لئے لومڑی کی کہاوت ہی کافی ہے کیونکہ وہ کہتی ہے :  ” مجھے کتے کے لئے 70سے زائد چالیں معلوم ہیں لیکن اس سے بہترچال کوئی نہیں دیکھی کہ میں اسے دیکھوں نہ وہ مجھے ۔  “ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:  حاکِمِ وقت کے لئے بھی اس سے بہتر کچھ نہیں کہ وہ تجھے دیکھے نہ تو اسے ۔ 
خلیفہ کو نصیحت: 
(9541)…حضرت سیِّدُنامحمدبن مسعودرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:  مجھے منٰی میں خلیفہ مہدی کے پاس لے جایا گیا تو جب میں نے اس کو حکومت وامارت کی وجہ سے سلام کیا تو اس نے کہا:  اے شخص! ہم نے تمہیں تلاش کیا مگر تم  نے ہمیں عاجز کردیا، شکر اُس خداتعالیٰ کا جو تمہیں لے آیاتو اب ہمیں اپنی حاجت بیان کرو۔ میں نے کہا: تم نے زمین کو ظلم و ستم سے بھر دیا، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ڈرو اور اس معاملے میں تم سے عبرت پکڑنی چاہیے ۔ خلیفہ نے اپنا سر جھکا لیا پھرسر اٹھا کر کہا:  اگر میں ظلم کوختم نہ کر سکوں توکیا رائے ہے ؟ میں نے کہا: منصَبِ خلافت کسی اور کے لئے خالی کر دو۔ اس نے دوبارہ اپناسر جھکا لیا پھر بولا: اپنی حاجت بیان کرو۔ میں نے کہا: مہاجرین و انصارکی اولاد اور بھلائی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والے محتاجی کے دروازے پرکھڑے ہیں، تم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ڈرو اور ان کے حقوق ادا کرو۔ خلیفہ نے ایک بار پھراپنا سر جھکا لیا تو اُس کے وزیرابو عُبَیْدُاللہنے کہا:  اے آدمی!تم ہم سے اپنی حاجت بیان کرو۔ میں نے کہا: میں اورکیا بیان کر رہا ہوں؟اورسنو!مجھ سے حضرت اسماعیل بن ابو خالد نے بیان کیاکہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عُمَر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حج کیا تو اپنے خزانچی سے پوچھا:  میرے حج پر کتنا مال خرچ ہوا؟اس نے عرض کی: 10دینار سے کچھ زیادہ۔ جبکہ میں یہاں (خلیفہ مہدی کی)ایسی شاہ خرچیاں دیکھ رہا ہوں کہ پہاڑ بھی ان کی سَکَت نہیں رکھتے ۔